.

شام کو نشانہ بنانے کی اسرائیلی کارروائیوں کا جواب آئے گا : سربراہ ایرانی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح فوج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری نے تقریبا دھمکانے والے انداز میں کہا ہے کہ اسرائیل کا گمان ہے کہ شام کو نشانہ بنانے پر اس کے سامنے کوئی جواب نہیں آئے گا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اتوار کے روز باقری کا یہ بیان نشر کیا ہے کہ "صہیونیوں کا یہ خیال ہے کہ وہ شام کی اراضی کو مستقل صورت میں نشانہ بنا سکتے ہیں اور سمندر میں مختلف جگہاؤں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اس پر کوئی جوابی کارروائی بھی نہیں ہو گی"۔

ایرانی فوج کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ "ہم اس بارے میں کچھ نہیں کہیں گے کہ یہ کارروائی کون کرے گا اور ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہیں البتہ مزاحمتی محاذ اس حوالے سے مرکزی جواب پیش کرے گا"۔

باقری کا اشارہ خطے میں تہران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی جانب تھا جن میں لبنانی حزب اللہ سرفہرست ہے۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی ڈھکی چھپی جنگ کا سلسلہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں تازہ ترین واقعہ ہفتے کی شب شام کے ایک ساحل کے نزدیک پیش آیا۔

شامی حکومت کی وزارت تیل نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں بانیاس ریفائنری کے نزدیک تیل بردار جہاز کے ایک ٹینک میں بھڑکنے والی آگ بجھانے میں کامیاب ہو گئے۔ بعد ازاں وزارت نے اس بات کا عندیہ دیا کہ تیل بردار بحری جہاز کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ خیال ہے کہ یہ حملہ لبنانی علاقائی پانی کی جانب سے ایک ڈرون طیارے کے ذریعے کیا گیا۔

یاد رہے کہ 2011ء میں شام میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل فضائی حملوں اور بم باری کی سیکڑوں کارروائیاں کر چکا ہے۔ اس دوران میں بنیادی طور پر بشار حکومت کی شامی فوج کے ٹھکانوں اور ایران اور حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیل کی جانب سے شاذ و نادر ہی ان حملوں کی تصدیق کی جاتی ہے۔ تاہم وہ بارہا یہ موقف دہرا چکا ہے کہ وہ شام میں ایران کی جانب سے اپنے عسکری وجود کے پاؤں جمانے کی کوششوں پر روک لگانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔