سعودی عرب میں حاملہ خواتین اب کووِڈ-19 کی ویکسین لگوا سکتی ہیں:وزارتِ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں حاملہ خواتین اب کرونا وائرس کی ویکسین لگوانے کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کراسکتی ہیں۔

سعودی وزارتِ صحت نے ٹویٹر پر یہ اعلان کیا ہے کہ ’’خصوصی سائنسی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں اب حاملہ خواتین کے لیے کووِڈ-19 کی ویکسینیں دستیاب ہیں۔‘‘

اس نے حالیہ مطالعات کی روشنی میں کہا ہے کہ ’’ویکسین سے کسی حاملہ خاتون یااس کے پیٹ میں نشوونما پانے والے جنین کو کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں لیکن اگر وہ اس حالت میں کروناوائرس کا شکار ہوجاتی ہے تو اس سے نہ صرف سنگین قسم کی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں بلکہ اس سے اس کے حمل کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔‘‘

سعودی وزارت صحت کے اس اعلان سے قبل حمل کے دوران میں کووِڈ-19 کی ویکسین لگوانے سے متعلق ایک وسیع ترتحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی تھی۔اس میں تحقیقی شواہد کی روشنی میں یہ بتایا گیا تھا کہ ویکسین حاملہ خواتین کے لیے بھی عام عورتوں کی طرح محفوظ ہے۔

اس رپورٹ کے ابتدائی نتائج امریکا میں حمل کے دوران میں ماڈرنا یا فائزر میں سے کسی ایک کی ویکسین لگوانے والی 35 ہزارخواتین سے حاصل کردہ ڈیٹا سے اخذ کیے گئے ہیں۔

امریکا کی سوسائٹی برائے تولیدی میڈیسن نے بھی الگ سے اس امرکی توثیق کی ہے کہ حاملہ خواتین کووِڈ-19 کی ویکسین لگوا سکتی ہیں۔سوسائٹی امریکا میں گذشتہ ایک سال سے کووِڈ-19 کی ویکسین کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔

اس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’حاملہ خواتین سمیت ہرکسی کو ویکسین لگوانی چاہیے اور جو خواتین مستقبل میں امید سے ہونا چاہتی ہیں ان کے لیےبھی کووِڈ-19 کی ویکسینیں محفوظ اور مؤثرہیں۔‘‘

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے دبئی حکومت نے فائزر کی ایم آر این اے ویکسین لگوانے والوں کے لیے اہلیت کے معیار میں توسیع کی تھی اور اہل افراد کی فہرست میں بچوں کوچھاتی کا دودھ پلانے والی ماؤں اور مستقبل میں امید سے ہونے کی خواہاں خواتین کو بھی شامل کرلیا تھا۔

سعودی عرب میں کروناوائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوانے والوں کی تعداد80 لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔ اس وقت سعودی عرب بھرمیں 587 ویکسی نیشن مراکزکام کررہے ہیں۔وہاں شہریوں اور مکینوں کو کووِڈ-19 کی مفت ویکسینیں لگائی جارہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں