.

تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے مستقل طور پر روکنا چاہتے ہیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے باور کرایا ہے کہ اس کی توجہ ایران کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر مرکوز ہے جو تہران کو مستقل صورت میں جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روک دے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے پیر کے روز کہا کہ "ایران کا جوہری ہتھیار حاصل کرنا نہ تو امریکا کے مفاد میں اور نہ یورپ، چین اور روس کے مفاد میں ہے"۔

پرائس کے مطابق ایران کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی روبرٹ مالے منگل کے روز اپنی ٹیم کے ساتھ ویانا واپس آئیں گے تا کہ رواں ہفتے بات چیت کا تیسرا دور شروع ہو سکے۔

یاد رہے کہ یورپی یونین نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ ویانا میں ایرانی جوہری معاہدے کے احیا کے مقصد سے منعقد بات چیت منگل کے روز دوبارہ شروع ہو گی۔ ویانا بات چیت میں ایران کے علاوہ برطانیہ ، چین ، فرانس ، جرمنی اور روس شریک ہیں۔ بات چیت کا مقصد ایرانی جوہری معاہدے کو پھر سے فعال کرنے کے واسطے ضروری اقدامات پر متفق ہونا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں اس معاہدے سے علاحدگی اختیار کر لی تھی۔

واضح رہے کہ ویانا بات چیت کے دو سابقہ ادوار میں معاہدے میں شریک یورپی فریقوں کا کہنا تھا کہ اس دوران میں پیش رفت دیکھی گئی تاہم ابھی مزید کام کی ضرورت ہے۔