.

امریکا اور اسرائیل ایرانی ڈرون طیاروں اور میزائلوں سے نمٹنے پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا اور اسرائیل مختلف ایجنسیوں کے بیچ ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس کا مقصد ایران کی جانب سے تیار کردہ ان ڈرون طیاروں اور گائیڈڈ میزائلوں کے بڑھتے ہوئے خطرے پر خصوصی توجہ مرکوز کرنا ہے جو تہران خطے میں اپنے ایجنٹ عناصر کو فراہم کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا یہ اعلان امریکا اور اسرائیل کے وفود کے درمیان ایک خصوصی اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی سفارت خانے میں ہونے والے اجلاس میں اسرائیل کی جانب سے سفیر جلعاد اردان ، قومی سلامتی کے مشیر مئیر بن شبات اور ان کے نائب روؤفین عازار نے نمائندگی کی۔ امریکی وفد میں قومی سلامی کے مشیر جیک سولیون ، مشرق وسطی اور شمالی افریقا کے لیے فرسٹ ڈائریکٹر باربرا لیو، بریٹ مکگورک اور ایران کے لیے امریکی ایلچی روب مالے شامل تھے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی اور اسرائیلی ذمے داران نے حالیہ برسوں میں ایرانی جوہری پروگرام میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے اپنے اندیشوں پر بحث کی۔ امریکی وفد نے اسرائیل کو ویانا بات چیت کی صورت حال سے آگاہ کیا۔ امریکی ذمے داران نے زور دیا کہ اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو امریکی صدر جو بائیڈن کی حمایت حاصل ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں دونوں فریقوں نے بیت المقدس میں حالیہ پر تشدد جھڑپوں کے حوالے سے اندیشوں کا تبادلہ کیا۔ امریکی ذمے داران نے باور کرایا کہ موجودہ انتظامیہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے بیچ امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے جاری کوششوں کی سپورٹ جاری رکھے گی۔

اجلاس سے قبل اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر جلعاد اردان کا کہنا تھا کہ "ہماری شرکت ایک ہی مقصد سے ہو رہی ہے اور وہ ہے ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے روکنا ،،، اس کے ساتھ آج ہماری بات چیت صرف ایران کے حوالے نہیں ہو گی بلکہ ہم شام، لبنان اور فلسطینیوں جیسے علاقائی معاملات کو بھی زیر بحث لائیں گے"۔