.
امریکا وبائیڈن

بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث امریکا، سعودی عرب کی مدد کا پابند ہے: پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع [پینٹاگان] کی ترجمان نے کہا ہے کہ ’’سعودی عرب کو یمن سمیت دوسری کئی جگہوں سے خطرات لاحق ہیں۔

منگل کے روز ترجمان پینٹاگان میرین کمانڈر جیسیکا مکنولٹی نے بتایا کہ ان کا ملک سعودی اہداف کے خلاف بڑھتی ہوئی جارحیت کی وجہ مملکت کی مدد کرنے کا پابند ہے۔‘‘

کمانڈر جیسیکا مکنولٹی کا بیان اس سے قبل پینٹاگان کے ترجمان جان کربی کے طرف دیے جانے والے بیان کی وضاحت کے لیے تھا۔ مکنولٹی نے کہا کہ ’’سعودی عرب کو یمن سمیت دیگر کئی علاقوں سے خطرات کا سامنا ہے۔‘‘

ترجمان پینٹاگان  میرین کمانڈر جیسیکا مکنولٹی
ترجمان پینٹاگان میرین کمانڈر جیسیکا مکنولٹی

انھوں نے مزید کہا کہ ’’جنوری کے مہینے سے سعودی عرب پر کم سے کم 150 جارحانہ حملے ہو چکے ہیں۔ گذشتہ برس کی اسی مدت کے دوران ہونے والے حملوں سے یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔‘‘

کمانڈر جیسیکا نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ’’امریکا، سعودی عرب کو اپنا دفاع بہتر بنانے کی خاطر مدد دینے کا پابند ہے تاکہ وہ اپنی سرزمین کے خلاف جارحیت کو ناکام بنا سکے۔‘‘

قبل ازیں امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) کے ترجمان جان کربی نے ایک اخباری بیان میں کہا تھا کہ ’’سعودی عرب کو اب بھی خطرات لاحق ہیں"، لیکن انہوں نے سعودی عرب میں ینبع سے کچھ فاصلے پر ایک بمبار کشتی کو تباہ کیے جانے سے متعلق مزید تفصیل بیان نہیں‌ کیں۔

منگل کے روز سعودی وزارت دفاع نے بحیرہ احمر میں ینبع سے دور بارود سے لدی ایک کشتی روکنے کے بعد تباہ کرنے کا دعوی کیا تھا۔ وزارت دفاع کے مطابق کہ نیوی کے اہلکار سمندر میں موجود ایک مشکوک بمبار کشتی کو تباہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

جان کربی
جان کربی

دو اپریل کو ایرانی پاسداران انقلاب کی کارروائیوں اور امریکی بحری جہازوں کے قریب ایرانی کشتی کی آمد کے بارے میں پینٹاگان کے ترجمان جان کربی نے بتایا کہ ’’ہم کشیدگی نہیں چاہتے ہیں اور نہ ہی ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے کسی قسم کی بدامنی یا تخریب کاری کی کوشش کو قبول کریں گے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے بلکہ ایسے معاملات ایک طویل عرصے سے چل رہے ہیں اور حالیہ واقعہ ان ہی کی ایک کڑی ہے۔ ہمیں ایرانی بحریہ اور پاسداران انقلاب تیز رفتار جنگی کشتیوں کو بار بار کشیدگی کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ان کارروائیوں پر امریکا کو گہری تشویش ہے۔‘‘