.

امریکا:ریاست کیلی فورنیا میں پولیس افسروں نے ایک اورشہری کوموت کی نیند سلادیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ریاست کیلی فورنیا میں سان فرانسیسکو بے ایریا کے شہر المیڈا میں پولیس افسروں نے گذشتہ ہفتے ایک اور شخص کو جسمانی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے موت کی نیند سلا دیا ہے۔پولیس نے اس نوجوان کو گرفتاری کے وقت پانچ منٹ تک زمین پر زبردستی دبائے رکھا تھا جس کے بعد دم گھٹنے سے اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔

26 سالہ ماریو گونزیلز کی پولیس کے ہاتھوں موت کا یہ واقعہ 19 اپریل کو المیڈا شہر میں واقع ایک پارک میں پیش آیا تھا۔اس کی تمام تفصیل پولیس افسروں کے دو کیمروں کی ویڈیو فوٹیج سے سامنے آئی ہے۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افسرجب گونزیلز کو ہتھکڑیاں لگانے کی کوشش کررہے تھے تو اس دوران میں اس کی حالت غیر ہوگئی تھی اور اس کو میڈیکل ایمرجنسی کی ضرورت پیش آئی تھی لیکن اس کے خاندان نے پولیس پر قتل کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ پولیس افسروں نے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا تھا جس سے اس کی جان ہی چلی گئی۔

اس واقعے میں ملوّث میں دو افسروں کے جسموں کے ساتھ نصب کیمروں کی قریباً ایک گھنٹے کی ویڈیو منگل کی شب جاری کی گئی ہے۔

اس کی تفصیل کے مطابق پولیس کو 911پر ایک کال موصول ہوئی تھی کہ پارک میں ایک مشتبہ شخص موجود ہے۔اس پر پولیس نے گونزیلز کو جالیا۔اس وقت ممکنہ طور پر کسی نشہ آور شے کے استعمال سے اس کی حالت غیرنظرآرہی تھی۔ پولیس نے اس کی شناخت پوچھی تو اس کو پولیس افسروں کے سوالوں کے جواب میں دشواری کا سامنا تھا۔

جب وہ اپنی شناخت کے بارے میں کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا تو پولیس افسروں نے اس کے ہاتھ کمر کے پیچھے باندھنے کی کوشش کی لیکن جب اس نے مزاحمت کی تو پولیس افسروں نے اس کو زمین پر گرادیا اور ایک نے اپنی کہنی سے اس کی گردن دبانا شروع کردی۔

گونزیلزکا وزن قریباً 250 پاؤنڈز (113 کلوگرام) تھا۔ویڈیومیں اس کا چہرہ نیچے کی جانب ہے اور وہ خودکو چھڑوانے کی کوشش کررہا ہے۔اس کے بعد ایک افسر نے اپنے گھٹنے سے اس کی گردن داب رکھی ہے اور کہنی کندھے پر دے رکھی ہے۔ایک اور افسر بھی اپنی کہنی سے اس کی پشت دبانے کی کوشش کررہا ہے جبکہ گونزیلز سانس لینے کی کوشش کررہاہے اور کہہ رہا ہے کہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔

پھر اس کی مزاحمت کمزور پڑتی چلی جاتی ہے اور کوئی پانچ منٹ کے بعد بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ بے ہوش ہوچکا ہے۔ویڈیو میں دونوں افسر بھی چہ میگوئیاں کرتے نظر آرہے ہیں کہ وہ سانس نہیں لے رہا ہے۔پھر وہ اس کو ہلا جلا کر مصنوعی طریقے سے سانس دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

In this image taken from Alameda Police Department body camera video, Alameda Police Department officers pin 26-year-old Mario Gonzalez to the ground during an arrest, April 19, 2021, in Alameda, Calif. Gonzalez stopped breathing during the arrest and was pronounced dead at a hospital. (AP)
In this image taken from Alameda Police Department body camera video, Alameda Police Department officers pin 26-year-old Mario Gonzalez to the ground during an arrest, April 19, 2021, in Alameda, Calif. Gonzalez stopped breathing during the arrest and was pronounced dead at a hospital. (AP)

پولیس نے اس کو اسی حالت میں اسپتال منتقل کیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کردی۔وہ شادی شدہ تھا اورچارسالہ بیٹے کا باپ تھا۔اس کے خاندان کے مطابق وہ اپنے آٹزم کا شکار 22سالہ بھائی کی بھی دیکھ بھال کرتا تھا۔

اس کے خاندان کے افراد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس افسروں پر اس کے قتل کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے اس کو بھی جارج فلائیڈ کی طرح زمین پر گرا کراور گلا گھونٹ کر مار دیا ہے۔

ماریو گونزیلز کی والدہ ایڈتھ آرینیلز کا کہنا ہے کہ ’’وہ احترام کرنے والا ایک پیارا انسان تھا۔پولیس والوں نے بغیرکسی وجہ کے میرے خاندان کو توڑ کےرکھ دیا ہے۔‘‘

المیڈا کاؤنٹی کا شیرف ڈیپارٹمنٹ اب گونزیلز کی موت کی تحقیقات کررہا ہے۔اس واقعہ میں ملوث تینوں افسروں کو تحقیقات کی تکمیل تک با تنخواہ چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔