.

ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کی آڈیو افشاہونے کے بعد صدر روحانی کے مشیرمستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی ایک صوتی ریکارڈنگ افشا ہونے کے بعد صدر حسن روحانی کے ایک سینیر مشیر اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

مستعفی مشیر حسام الدین آشینہ تہران میں قائم تھنک ٹینک مرکز برائے تزویراتی مطالعات (سی ایس ایس) کے سربراہ بھی تھے۔ان پر وزیرخارجہ کی آڈیو لیک کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔اس میں ایرانی وزیر خارجہ کو سفارت کاری میں فوج کے کردار کا شکوہ کرتے ہوئے سنا گیا تھا۔

اب صدر روحانی نے ان کی جگہ حکومت کے ترجمان علی ربیعی کو سی ایس ایس کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔

ایران میں حکومت مخالفین نے آشینہ پر الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے وزیرخارجہ جواد ظریف کے ایک خفیہ انٹرویو کی آڈیو لیک کی تھی۔ان کا یہ انٹرویو فروری میں سی ایس ایس میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔

دریں اثنا ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا نے اطلاع دی ہے کہ عدلیہ نے آڈیو افشا ہونے کے معاملے میں ملوث پندرہ افراد کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عاید کردی ہے۔

اس افشا ریکارڈنگ کو گذشتہ اتوار کو لندن سے تعلق رکھنے والے ایران انٹرنیشنل ٹی وی اسٹیشن نے نشر کیا تھا۔اس میں جواد ظریف کو یہ شکایت کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ان کا سپاہِ پاسداران انقلاب اور اس کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کے مقابلے میں سفارت کاری میں کم اثرورسوخ ہے۔

اس آڈیو ریکارڈنگ پر ایران کی سیاسی اشرافیہ میں ایک ہیجان برپا ہے۔ایران میں پاسداران انقلاب اور مقتول قاسم سلیمانی پر تنقید کو سرخ لکیرسمجھاجاتا ہے۔

جواد ظریف نے بدھ کو انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ انٹرویو ایک خفیہ نظری بحث سے متعلق تھا لیکن انھیں افسوس ہے کہ ان کی آڈیو ایک داخلی تنازع کا سبب بن گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے دیانت دارانہ تبصرے کو غلط معنی پہنائے گئے ہیں اور ان کے تبصرے کو ذاتی تنقید قرار دیا جارہا ہے۔

صدرروحانی نے گذشتہ روز سراغرسانی کی وزارت کو آڈیو کی چوری کے اس تمام معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔انھوں نے کہاکہ جن لوگوں نے یہ غلطی کی ہے،ان سے رحم کا کوئی معاملہ نہیں کیاجائے گا۔