.

خلیج میں ہمارے جہازوں سےایرانی کشتیوں کی چھیڑچھاڑاشتعال انگیزی ہے:امریکی چیف آف اسٹاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے کہا کہ خلیج میں ہمارے بحری جہازوں کے تک ایرانی کشتیوں کا پہنچنا اور ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اشتعال انگیز کارروائی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے بحری جہازوں اور عملے کے تحفظ کے لیے ہرممکن اقدام کریں گے۔

افغانستان سے انخلا کے بارے میں مارک ملی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم انخلا کے بعد القاعدہ کی واپسی کے خطرات سے واقف ہیں لیکن ہم وہاں کی صورتحال پر نظر رکھیں گے۔

گذشتہ پیر کو امریکی بحریہ کے عہدیداروں نے انکشاف کیا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والی کشتیاں رواں ماہ خلیج عرب میں خطرناک اور اشتعال انگیز طریقے سے دو امریکی جہازوں کے قریب پہنچ گئیں تھیں۔

آبنائے ہرمز
آبنائے ہرمز

وال اسٹریٹ جرنل نے عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حادثہ جو اس سال کا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے 2 اپریل کو پیش آیا تھا۔ انہی دنوں ویانا میں ایران کے جوہری پروگرام کی تجدید کے لیے مذاکرات شروع ہوئے تھے۔

امریکی بحریہ کے عہدیداروں نےبتایا ہے کہ اسپیڈ بوٹ دو کوسٹ گارڈ کے جہازوں کے قریب پہنچیں جب وہ خلیج فارس کے جنوبی حصے میں بین الاقوامی پانیوں پر گشت کررہے تھے۔

امریکی فوج نے پیر کے روز پیش آنے والے اس واقعے کے حوالے سے مزید بتایا کہ "امریکی عسکری عملے نے وائرلیس اور لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے کئی بار خبردار کیا تاہم ایرانی پاسداران انقلاب کی بحری کشتیوں نے گشت پر مامور امریکی بحریہ اور امریکی ساحلی پولیس کے زیر انتظام جہازوں کے نزدیک مشقیں جاری رکھیں۔ ایرانی کشتیاں امریکی بحری جہازوں سے 70 میٹر سے بھی کم فاصلے پر آ گئی تھیں۔

امریکی فوج کے "فِفتھ فِلیٹ" کے مطابق یہ واقعہ پیر 26 اپریل کو مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے خلیجِ عربی کے شمال میں اس وقت پیش آیا جب امریکی کشتیاں اپنا معمول کا گشت انجام دے رہی تھیں۔ امریکی فلیٹ نے مزید بتایا کہ رواں ماہ یہ ایرانی کشتیوں کی جانب سے امریکی جہازوں کو ہراساں کرنے کا "دوسرا واقعہ" ہے۔

گذشتہ پانچ برس کے دوران میں اس طرح کے واقعات وقتا فوقتا پیش آتے رہے ہیں۔ البتہ گذشتہ برس اس حوالے سے نسبتا خاموشی دیکھی گئی۔ سال 2017ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکی بحریہ نے انتباہی فائرنگ کی۔

ایک اور واقعے میں امریکی فوج نے منگل کی شام اعلان کیا ، کہ ایرانی پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والی 3 کشتیوں نے پیر کی شام خلیج کے پانیوں میں ایک امریکی جنگی جہاز اور ایک اور امریکی کشتی سے تعلق رکھنے والی دوسری کشتی کو ہراساں کیا۔