.

افغانستان سے امریکی اورنیٹوفوج کے انخلا کا باقاعدہ آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان سے امریکی اور نیٹو فوج کے انخلا کا ہفتے کے روز باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان میں موجود فوجیوں کے انخلا کے آغاز کے لیے یکم مئی کی تاریخ مقرر کی تھی۔اس وقت افغانستان میں امریکا کے ڈھائی سے ساڑھے تین ہزارفوجی اور نیٹو کے قریباً سات ہزار فوجی موجود ہیں۔

امریکی فوج اس وقت اپنے سامان کی فہرستیں تیارکررہی ہے اور یہ فیصلہ کررہی ہے کہ کس سامان کو واپس امریکا بھیجا جاسکتا ہے،کون سا سامان افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا جائے گا اور کس فوجی سازو سامان کوافغانستان کی مارکیٹوں میں عام بیچا جاسکتا ہے۔حالیہ ہفتوں کے دوران میں امریکی فوج اپنا بہت سا سازوسامان سی-17 مال بردارطیاروں کے ذریعے واپس بھیج چکی ہے اورابھی بھیجی رہی ہے۔

براؤن یونیورسٹی کے جنگ کی لاگت منصوبہ کے مطابق امریکا افغانستان میں گذشتہ دو عشروں کے دوران میں 20 کھرب ڈالر جھونک چکا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے حکام اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کے دوران میں امریکی فوج نے جن چھوٹے فوجی اڈوں کو خالی کیا ہے،انھیں بند کردیا گیا ہے۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن کے اعلان کے بعد سے صرف 60 فوجی واپس گئے ہیں۔

افغانستان میں غیرملکی افواج کے کمانڈرامریکی آرمی جنرل اسکاٹ ملرنے گذشتہ اتوار کو کابل میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ افغانستان میں موجود غیرملکی فورسزکے ترتیب وارانخلا اور ان کے زیراستعمال فوجی اڈے افغان مسلح افواج کے حوالے کرنے کے لیے اقدامات کاآغاز ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا:’’مجھے طالبان کے سیاسی کمیشن کے ارکان سے بات چیت کا موقع ملا ہے اور میں نے انھیں باور کرایا ہے کہ اگر تشدد کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجاتا ہے اور کسی فوجی فیصلے پرمجبورکیاجاتا ہے تو یہ افغانستان اور افغان عوام کے لیے ایک المیہ ہوگا۔‘‘

افغان طالبان نے گذشتہ سال امریکا سے دوحہ میں طے شدہ سمجھوتے کے تحت القاعدہ کے ساتھ ہرقسم کا تعلق توڑنے اور ملک سے تشدد آمیزکارروائیوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا لیکن تجزیہ کاروں کے بہ قول انھوں نے امریکا کی قیادت میں غیرملکی فورسز پر توحملے کم کردیے ہیں لیکن افغان سکیورٹی فورسز پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے جنوری میں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ افغانستان میں القاعدہ کے قریباً 500 جنگجو موجود ہیں۔طالبان نے ان کے ساتھ قریبی روابط استوار کررکھے ہیں جبکہ طالبان افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی سے انکاری ہیں اور وہ ایسی اطلاعات کی تردید کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے گذشتہ ماہ افغانستان میں موجود باقی ماندہ فوج کا انخلا 11ستمبر تک مؤخرکرنے کا اعلان کیا تھا۔افغان طالبان اورسابق ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان فروری2020ء میں طے شدہ سمجھوتے کے مطابق رواں سال یکم مئی تک جنگ زدہ ملک سے امریکی فوجیوں کا انخلا مکمل ہونا تھا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’’افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کی تاریخ گزرجانے کے بعد اب مجاہدین قابص فورسز کے خلاف ہر طرح کی جوابی کارروائیوں کے لیے آزاد ہیں۔تاہم محاذجنگ پر موجود جنگجو اب کوئی بھی حملہ کرنے سے پہلے اپنی قیادت کے فیصلے کا انتظار کریں گے اور یہ فیصلہ ملک کی خودمختاری ، اقداراوراعلیٰ مفادات پر مبنی ہوگا۔‘‘