.

سعودی تعاون کے بغیر یمن قضیے کا کوئی حل ممکن نہیں: امریکی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز العربیہ/الحدث نیوز چینلز کا دیے گئے خصوصی بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی حمایت کے بغیر یمن کے مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔

’’حوثیوں کو چاہئے کہ وہ یمن اور سعودی عرب میں عام شہریوں کے خلاف حملے بند کریں۔‘‘ بیان میں وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ یمن میں امداد کی فراہمی پہلی ترجیح ہونی چاہے تاکہ معاملے کے سیاسی حل کی جانب آگے بڑھا جا سکے۔‘‘

اقوام متحدہ کا خیر مقدم

جمعرات کے روز یمن میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے یمن میں جنگ بندی کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمن میں جنگ کے خاتمے سے خطے کے استحکام اور سلامتی میں مدد ملے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ منگل کو 'العربیہ' چینل کے ذریعہ نشر کیے گئے ایک انٹرویو میں شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ حوثیوں کا ایرانی حکومت کے ساتھ مضبوط تعلق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یمن میں قانونی حیثیت کے خلاف حوثی بغاوت غیر قانونی ہے۔

جنگ بندی

شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب اپنی سرحدوں پر مسلح ملیشیاؤں کی موجودگی کو قبول نہیں کر سکتا کیونکہ یہ مسلح گروپ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں‌ نے یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی دعوت کا اعادہ کیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ حوثی باغیوں کا ایرانی حکومت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ یمن میں آئینی حکومت کے خلاف حوثی بغاوت غیر قانونی ہے۔

مآرب میں یمنی فوج کا ایک اہلکار
مآرب میں یمنی فوج کا ایک اہلکار

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حوثیوں کا ایرانی حکومت کے ساتھ گہرا تعلق ہے لیکن حوثی یمن ہی کے باشندے ہیں اور ان کی شناخت یمن کے عرب باشندوں کے ساتھ ہے۔ مجھے امید ہے کہ یمن کے حوثی اپنےملک کے مفادات کو ہر چیز پر مقدم رکھیں گے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ حوثی مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل طلب مسائل کا حل تلاش کریں گے جو تمام یمنیوں کے حقوق کی ضمانت اور خطے کے ممالک کے مفادات کی ضمانت دیں۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مزید کہا کہ سعودی عرب اپنی سرحدوں پر خلاف قانون کسی مسلح تنظیم کے وجود کو قبول نہیں کرتا۔ حوثیوں کو جنگ بندی قبول کرنا ہوگی اور انہیں مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔