.

عالمی طاقتیں ایران سے وسط مئی سے قبل جوہری ڈیل کی بحالی کی خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی طاقتیں ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے کی وسط مئی سے قبل بحالی کی خواہاں ہیں۔عالمی طاقتوں اورایران کے درمیان ویانا میں گذشتہ تین ہفتے سے مذاکرات جاری ہیں مگر ان میں اب تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلی وان کا کہنا ہے کہ ’’اس وقت مذاکرات بالکل غیرواضح جگہ پرہیں جبکہ ایرانی اس بات چیت کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔خواہ ان کا کوئی نتیجہ مثبت نکلے گا یا منفی،اس کا ابھی تعیّن ہوگا۔‘‘

ویانامیں امریکا کی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے میں دوبارہ واپسی کے بارے میں بات چیت کی جارہی ہے۔اس میں امریکااور ایران کے مذاکرات کار بالواسطہ شریک ہیں۔

دو یورپی سفارت کاروں نے بتایا ہے کہ طرفین 22مئی سے قبل ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذکورہ سمجھوتے کی بعض نئی شرائط کے ساتھ بحالی چاہتے ہیں جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ وسط جون تک کی کوئی تاریخ زیادہ حقیقت پسندانہ ہوگی۔

ایران اور ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے نے فروری میں ایک ڈیل سے اتفاق کیا تھا۔اس کے تحت 22مئی کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات میں آئی اے ای اے اپنے کیمرے نصب کرے گا جس سے اس کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جاسکے گی۔

یورپی ممالک ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی اصل شکل میں بحالی چاہتے ہیں اور وہ ایران کی مشرقِ اوسط کے خطے میں دوسری سرگرمیوں پر زور نہیں دے رہے ہیں جبکہ امریکا خطے میں ایران کے تخریبی کردار کا بھی خاتمہ چاہتا ہے اور وہ اس سے متعلق بعض شقوں کا اضافہ چاہتا ہے۔

امریکی صدرجوبائیڈن حالیہ ہفتوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر جوہری سمجھوتے کی سخت پاسداری کرے تو ان کی انتظامیہ بھی ایسا کرنے کو تیار ہوگی لیکن ایران اس سے پہلے امریکا سے تمام پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کررہا ہے۔

تاہم امریکی صدر کے ناقدین ان پر یہ زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف پابندیوں کو برقراررکھیں تا کہ اس کو جوہری سمجھوتے کی پاسداری کے لیے مجبورکیا جاسکے۔

مگر اس کے باوجود بائیڈن انتظامیہ نے حال ہی میں امریکا کے اس دعوے سے دستبرداری کا بھی اعلان کردیا ہے کہ ایران کے خلاف جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں پابندیاں عاید کی گئی تھیں۔انھوں نے اقوام متحدہ میں تعینات ایرانی سفارت کاروں کے خلاف عاید کردہ سفری پابندیاں ختم کردی تھیں اور یمن میں اس کی گماشتہ حوثی ملیشیا کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کردیاتھا۔

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور اس کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔اس کے ردعمل میں ایران نے جوہری سمجھوتے کی شرائط کی مرحلہ وار پاسداری نہ کرنے کااعلان کیا تھا اور اس نے یورینیم کو 20 فی صد تک افزودہ کرنا شروع کردیا تھا۔