.

ایرانی وزیرخارجہ کی افشاآڈیو میں گفتگو’’حیران کن اور تباہ کن‘‘ ہے:علی خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای نے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کی افشا آڈیو ریکارڈنگ میں فوج پر تنقید کو حیران کن اور تباہ کن قراردیا ہے۔

علی خامنہ ای نے اتوار کو ایک نشری تقریر میں کہا ہے:’’ہم نے حال ہی میں ملک کے عہدے داروں میں سے ایک سے کچھ سنا ہے۔یہ بہت ہی حیرت انگیزاور تباہ کن تھا۔‘‘

انھوں نے اپنی تقریر میں کسی بھی مرحلے پر وزی خارجہ جواد ظریف کا نام نہیں لیا ہے۔البتہ یہ کہا ہے کہ وہ امریکا کے دعووں کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا:’’ہمیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہییں جن سے یہ لگے کہ ہم امریکیوں ہی کے مؤقف کا اعادہ کررہے ہیں۔‘‘

ایران کے رہبرِاعلیٰ نے کہا کہ ’’وزارتِ خارجہ کا کام اعلیٰ اداروں اور عہدے داروں کی وضع کردہ پالیسیوں پر عمل درآمد ہے۔دنیا میں کہاں وزارت خارجہ کسی ملک کی خارجہ پالیسی کا تعیّن کرتی ہے۔‘‘

جواد ظریف کی معذرت

جواد ظریف نے خامنہ ای کی تقریر نشر ہونے کے بعد انسٹاگرام پر ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں سپریم لیڈر کی ناراضی پر ان سے معذرت کی ہے۔

وہ لکھتے ہیں:’’میں بہت زیادہ معذرت خواہ ہوں کہ میرے بعض ذاتی خیالات سے معزز رہبرِ اعلیٰ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘‘

جواد ظریف لکھتے ہیں:’’خامنہ ای کے بیانات ہمیشہ سے میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے فیصلہ کن عامل کی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ان کے احکام کو تسلیم کرنا خارجہ پالیسی کی ایک ناقابل تردید ضرورت ہے۔‘‘

ایرانی وزیرخارجہ کی اس افشا ریکارڈنگ کو گذشتہ اتوار کو لندن سے تعلق رکھنے والے ایران انٹرنیشنل ٹی وی اسٹیشن نے نشر کیا تھا۔اس میں انھیں سفارت کاری میں فوج کے کردار کا شکوہ کرتے ہوئے سنا گیا تھا۔ انھیں یہ شکایت کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’’میرا سپاہِ پاسداران انقلاب اور اس کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کے مقابلے میں سفارت کاری میں کم اثرورسوخ ہے۔‘‘

اس آڈیو ریکارڈنگ پر ایران کی سیاسی اشرافیہ میں ایک ہیجان برپا ہے۔ایران میں پاسداران انقلاب اور مقتول قاسم سلیمانی پر تنقید کو سرخ لکیرسمجھاجاتا ہے۔قاسم سلیمانی سپاہِ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کی ذمہ دار القدس فورس کے کمانڈر تھے۔ وہ جنوری 2020ء میں بغداد میں امریکا کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

قبل ازیں جواد ظریف نے انسٹاگرام کی ایک اور پوسٹ میں کہا تھا:’’مجھے امید ہے کہ قاسم سلیمانی کا خاندان ،ایران کے عظیم لوگ ،سلیمانی کے تمام محبین بالخصوص ان کا عظیم خاندان مجھے معاف کردیں گے۔‘‘

جواد ظریف نے گذشہ بدھ کو انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ان کا انٹرویو ایک خفیہ نظری بحث سے متعلق تھا لیکن انھیں افسوس ہے کہ ان کی آڈیو ایک داخلی تنازع کا سبب بن گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے دیانت دارانہ تبصرے کو غلط معنی پہنائے گئے ہیں اور ان کے تبصرے کو کسی پرذاتی تنقید قرار دیا جارہا ہے۔

ان کی صوتی ریکارڈنگ افشا ہونے کے بعد صدر حسن روحانی کے ایک سینیر مشیر حسام الدین آشینہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔وہ تہران میں قائم تھنک ٹینک مرکز برائے تزویراتی مطالعات (سی ایس ایس) کے سربراہ تھے۔ان پر وزیرخارجہ کی آڈیو لیک کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں