.

سعودی عرب:اضافی قدری ٹیکس کی شرح آیندہ پانچ سال میں 5 فی صد تک لانے کااعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیرخزانہ محمد الجدعان نے اعلان کیا ہے کہ مختلف اہداف کے حصول کے بعد مملکت میں نافذالعمل اضافی قدری ٹیکس (ویٹ) کی شرح پر نظرثانی کی جائے گی اورآیندہ ایک سے پانچ سال کے دوران میں اس کو15 فی صد سے کم کرکے 5 فی صد کردیا جائے گا۔

انھوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بجٹ کی ری اسٹرکچرنگ اورسرکاری اخراجات میں کمی سے گذشتہ چار سال کے دوران میں 400 ارب ریال کی بچت ہوئی ہے۔یہ سعودی ویژن 2030ء پر پانچ سال قبل عمل درآمد کے بعد ایک اہم کامیابی ہے۔

محمد الجدعان نے ہفتے کی شب سعودی عرب کی چار وزارتوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں ایک تقریر میں سعودی ویژن 2030ء کے تحت حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں اظہارخیال کیا ہے۔ یہ چاروں وزارتوں اس ویژن کے تحت پروگراموں پر عمل درآمد کی ذمہ دار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’ریاست کے پاس فنڈنگ کے لیے مختلف ذرائع دستیاب ہیں۔ان میں قرض کی رقوم ، زرمبادلہ کے ذخائر اور سرکاری سرمایہ کاری فنڈ کی دولت شامل ہے۔سعودی عرب کے پاس ایسے اثاثے بھی ہیں جنھیں وہ نجی شعبے کے حوالے کرنا چاہتا ہے۔نیز ہم بجٹ میں کٹوتیوں کے تعیّن کے وقت بھی احتیاط کا مظاہرہ کریں گے۔‘‘

جب ان سے صکوک اوربانڈزکے اجرا کی سطح کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ گروپ 20 کے ممالک کے مقابلے میں قرض کی سطح مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی)کی 33 فی صد تک شرح کے لحاظ سے مناسب ہے۔

محمد الجدعان نے کہا کہ ’’قرض کی سطح ہرگز بھی باعثِ تشویش نہیں ہے۔سعودی عرب کے پاس سرکاری سرمایہ کاری فنڈ میں بہت دولت موجود ہے اور ایسے اثاثے بھی موجود ہیں جنھیں وقتِ ضرورت استعمال لایا جاسکتا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ سعودی عرب نے یکم جولائی 2020ءسے ویلیوایڈڈ ٹیکس کی شرح پانچ فی صد سے بڑھا کر پندرہ فی صد کردی تھی۔سعودی وزارتِ خزانہ نے یہ فیصلہ کرونا وائرس کی وَبا کے قومی معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کو زائل کرنے اور طویل المیعاد مالیاتی استحکام کے لیے مختلف اقدامات کے ضمن میں کیا تھا۔

تاہم سعودی حکومت نے گذشتہ سال نومبر میں کووِڈ-19 کی وبا کے خاتمے کے بعد اضافی قدری ٹیکس کی اضافہ شدہ شرح پر نظرثانی کا اعلان کیا تھا۔اب وزیرخزانہ نے اس کی تصدیق کردی ہے۔خود ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی ویٹ کے نفاذ کو ایک تکلیف دہ فیصلہ قرار دے چکے ہیں۔

سعودی ویژن 2030ء

سعودی عرب کی کونسل برائے اقتصادی اور ترقیاتی امور نے حال ہی میں ویژن 2030ء کے تحت گذشتہ پانچ سال کے دوران میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا جائزہ پیش کیا ہے۔

اس ویژن کے تحت ادارہ جاتی تنظیم نو اور قانونی ڈھانچے کی تعمیر کی گئی ہے۔نظم ونسق کا نظام مؤثر بنانے کے لیے پبلک پالیسیاں تشکیل دی گئی ہیں اور اقدامات کیے گئے ہیں۔نیز شہریوں اور نجی شعبے کی ملک کی تعمیروترقی کی سرگرمیوں میں شرکت میں اضافہ کیا گیا ہے۔

سعودی ویژن 2030ء کے اعلان کے بعد 2015ء سے غیرملکی سرمائے کے مملکت سے بیرون ملک اخراج میں 58 فی صد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ سعودی عرب میں غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری کا حجم بڑھ کر 17 ارب 625 کروڑ ریال ہوگیا ہے۔پانچ سال قبل اس کا حجم پانچ ارب 321 کروڑ ریال تھا۔اس طرح اس میں 331 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

سعودی حکومت نے اس ویژن کے تحت معاشرے کی فلاح وبہبود کے مختلف منصوبے بھی شروع کیے ہیں۔ان سے سعودی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو سعودی عرب میں سرمایہ لگانے کی ترغیب ملی ہے۔ان میں جدید شہر نیوم ، القدیہ ،بحیرہ احمر کے منصوبے اوردوسرے ترقیاتی پراجیکٹ شامل ہیں۔