.

سعودی عرب:کروناوائرس کی توکلنا ایپ کے صارفین کی تعداد دو کروڑ سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے وزارتِ صحت کی تیارکردہ توکلنا ایپلی کیشن کے صارفین کی تعداد دو کروڑ سے بڑھ گئی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق گذشتہ دوماہ کے دوران میں اس ایپ کو استعمال کرنے والوں میں 30 لاکھ صارفین کا اضافہ ہوا ہے۔توکلنا ایپ نے سعودی عرب میں کروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کی مہم میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ایس پی اے کا کہنا ہے کہ توکلنا ایپ سعودی ویژن 2030ء کے مقاصد اور اہداف کے حصول کے لیے نظام کی ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب ایک کامیاب تجربہ ہے۔اس ایپ پر مسلسل نظرثانی کی جارہی ہے اور اب اس میں حکومت کی جانب سے مہیا کی جانے والی بہت سی سرکاری خدمات بھی شامل کی جا چکی ہیں۔

سعودی حکومت اس کو ایک جامع قومی ایپلی کیشن میں تبدیل کرنا چاہتی ہے تا کہ مملکت کے تمام شہریوں ، مکینوں اور زائرین کو روزمرہ کی زندگی کے لیے درکار خدمات مہیا کی جاسکیں۔

اس وقت اس کے ذریعے صحت ، تعلیم ، حج وعمرہ ، اجازت ناموں ، ڈرائیونگ لائسنس کے پری ویو ، انشورنش اورپاسپورٹس کے اجرا سمیت مختلف خدمات مہیا کی جاری ہیں۔

سعودی اتھارٹی برائے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت (سدایا) سدایا کی تیارکردہ ایپ ’توکلنا‘ وزارتِ صحت کی منظور شدہ ہے۔گذشتہ سال کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اس ایپ کو متعارف کرانے کا مقصد کووِڈ-19 سے متاثرہ افراد افراد کی نگرانی کرناتھا۔

گذشتہ سال سعودی عرب نے اس مہلک وائرس کی وبا کے عروج کے دنوں میں بڑے شہروں میں کرفیو نافذ کردیا تھا اور اس دوران میں توکلنا ایپ ہی کے ذریعے لوگوں کی نقل وحرکت کی نگرانی کی جاتی رہی تھی۔اس کے ذریعے مختلف اداروں کے ورکروں کو مجاز حکام سے گھروں سے اپنے کام کی جگہوں پر جانے کے لیے برقی اجازت نامہ جاری کیے جاتے رہے ہیں۔

سعودی وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے جنوری میں اسی ایپ کے ذریعے کووِڈ-19 کی ویکسین لگوانے والے شہریوں اور مکینوں کے لیے آن لائن ’’صحت پاسپورٹ‘‘ کا اجرا کیا تھا۔کووِڈ-19 کی ویکسین کی دوسری خوراک لگوانے والے شخص کو چند سیکنڈز میں توکلنا ایپ پرخودکار طریقے سے صحت پاسپورٹ جاری ہوجاتا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کاوشوں کے حصے کے طور پر ’’صحت پاسپورٹ‘‘ جاری کیے جارہے ہیں۔صحت پاسپورٹ سے حکام کو ویکسین لگوانے والے افراد کی شناخت میں بھی مدد ملتی ہے۔