.

وژن 2030 کے اہداف کے مطابق سعودی ملٹری انڈسٹری کیسے ترقی کررہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف ملٹری انڈسٹری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو جاری ایک پریس بیان میں بتایا ہے کہ ملٹری انڈسٹری کےقیام کے بعد بیرون ملک سے مالیاتی معاہدوں کے ذریعے حاصل ہونے والی آمد ایک ارب ریال سے تجاوز کرگئی ہے۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب مقامی سطح پر دفاعی پیداوار کے میدان میں تیزی کے ساتھ کفالت کی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔سنہ 2019ء میں مقامی پیداوار 7,574,000,000 ريال ریکارڈ کی گئی۔

سنہ 2019ء کے دوران سعودی حکومت نے ملک میں فوجی صنعت کے لیے لائنسسوں کے اجرا کا ایک پروگرام شروع کیا۔ اس پروگرام کے تحت 91 کمپنیوں کو142 عسکری مصنوعات کے پرمٹ جاری کیےگئے۔ اس کے علاوہ وژن 2030 کے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے 10 بڑے معاہدے کیے گئے جو کل معاہدوں کا 30 فی صد ہیں۔

اتھارٹی نے مزید کہا کہ اس کے قیام کے بعد سے دفاعی اور فوجی صنعتوں کے شعبے کے لیے ٹھوس بنیادوں کی تعمیر کا کام سونپ دیا گیا ہے۔ اس شعبے میں لوکلائزیشن کی شرحوں میں سعودی عرب کے فوجی سازو سامان اور سروسز پر 50 فی صد سے زیادہ کے اخراجات میں اضافہ کرنےکا فیصلہ کیا گیا جوکہ وژن2030 کے اہداف کاحصہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ملٹری اتھارٹی کےسیکٹر میں ایک جامع میکا نزم تیار کیا گیا ہے جس میں ملک بھر میں تمام عسکری مصنوعات کی خریداری کو ایک فریم ورک میں لانے پرزور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملٹری انڈسٹری نے فوجی سازو سامان کی تیاری کے لیے11 مختلف شعبوں کا تعین کیا ہے۔ فوجی صنعت کے میدان میں تحقیق کے ساتھ شعبے اس کے علاوہ ہیں۔ ان سات شعبوں کی مزید 21 ٹارگٹ ٹیکنالوجیوں‌ پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے مقامی ٹیلنٹ کو استعمال کرنے اور فوجی صنعت کو مقامی شہریوں کے ذریعے ترقی دینے کا کام جاری ہے۔

پانچ سال قبل سعودی عرب نے وژن 2030 کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی ملٹری انڈسٹری کےقیام کا بھی اعلان کیا گیا۔ وژن کے اہداف کے تحت مقامی سطح پر تین اقسام کے ڈرون طیاروں کی تیای،HIS-32 طرز کی تیز رفتار آبدوزوں، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں، ٹائیفون طیاروں اور الدھنا بکتر بند گاڑیوں کی تیاری کا کام شروع کیا گیا۔