.

خامنہ ای کےپاسداران انقلاب میں نمایندہ نے جوادظریف کی افشاانٹرویوپرمذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے ایک افشا آڈیو میں سپاہِ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) اور اس کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی پر تنقید کیا کی ہے کہ اب وہ خود ہدفِ تنقید بنے ہوئے ہیں۔ایران کے رہبراعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے آئی آر جی سی میں نمایندہ عبداللہ حاجی صادقی نے ان کے افشا انٹرویو کو’’ناقابل فراموش ناانصافی‘‘ قرار دیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا کے مطابق عبداللہ حاجی نے جواد ظریف کے افشا بیان کو قاسم سلیمانی اور آئی آر جی سی کے خلاف ’’جھوٹے الزامات‘‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم ان ناانصافیوں سے رعایت تو برت سکتے ہیں لیکن ہم انھیں کبھی فراموش نہیں کریں گے۔‘‘انھوں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ جواد ظریف کے بیان میں ’’انتخابی محرکات‘‘ پنہاں ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’بدقسمتی سے اس معاملے میں انتخابی محرکات کارفرما ہوسکتے ہیں۔عظیم انسانوں کی بے توقیری کے ذریعے کوئی خود کو زیادہ تقدس مآب بنا کر پیش کرنا چاہتا ہے۔‘‘

ایران میں 18 جون کو صدارتی انتخابات منعقد ہوں گے۔جواد ظریف خود تو یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ان صدارتی انتخابات میں امیدوار نہیں ہوں گے لیکن بعض اصلاح پسندوں کا خیال ہے کہ وہ ممکنہ امیدوار ہوسکتے ہیں۔

عبداللہ حاجی صادقی نے ان پر تنقید کرتے ہوئے مزیدکہا ہے کہ ’’جواد ظریف نے ’’بے بنیاد اور جھوٹے الزامات‘‘ کے ذریعے نہ صرف قاسم سلیمانی کا تشخص مجروح کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ انھوں نے تمام ایرانی شہداء کے تشخص اور ان کے خاندان کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کو ایک نشری تقریر میں وزیرخارجہ کی افشا آڈیو ریکارڈنگ میں فوج پر تنقید کو حیران کن اور تباہ کن قراردیا تھا۔ انھوں نے کہا:’’ہم نے حال ہی میں ملک کے عہدے داروں میں سے ایک سے کچھ سنا ہے۔یہ بہت ہی حیرت انگیزاور تباہ کن تھا۔‘‘

رہبرِاعلیٰ نے کہا کہ ’’وزارتِ خارجہ کا کام اعلیٰ اداروں اور عہدے داروں کی وضع کردہ پالیسیوں پر عمل درآمد ہے۔دنیا میں کہاں وزارت خارجہ کسی ملک کی خارجہ پالیسی کا تعیّن کرتی ہے۔‘‘

انھوں نے اپنی تقریر میں کسی بھی مرحلے پر وزیر خارجہ جواد ظریف کا نام نہیں لیا تھا۔البتہ یہ کہاکہ وہ امریکا کے دعووں کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔انھوں نے کہا:’’ہمیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہییں جن سے یہ لگے کہ ہم امریکیوں ہی کے مؤقف کا اعادہ کررہے ہیں۔‘‘

جواد ظریف نے خامنہ ای کی تقریر نشر ہونے کے بعد انسٹاگرام پر ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں سپریم لیڈر سے معذرت کی تھی۔انھوں نے لکھا:’’میں بہت زیادہ معذرت خواہ ہوں کہ میرے بعض ذاتی خیالات سے صاحب ذی وقاررہبراعلیٰ کو پریشانی کاسامنا کرنا پڑا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا:’’خامنہ ای کے بیانات ہمیشہ سے میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے فیصلہ کن عامل کی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ان کے احکام کو تسلیم کرنا خارجہ پالیسی کی ایک ناقابل تردید ضرورت ہے۔‘‘

ایرانی وزیرخارجہ کی اس افشا ریکارڈنگ کو 25 اپریل کو لندن سے تعلق رکھنے والے ایران انٹرنیشنل ٹی وی اسٹیشن نے نشر کیا تھا۔اس میں انھیں سفارت کاری میں فوج کے کردار کا شکوہ کرتے ہوئے سنا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا’’میرا سپاہِ پاسداران انقلاب اور اس کے (مقتول) کمانڈر قاسم سلیمانی کے مقابلے میں سفارت کاری میں کم اثرورسوخ ہے۔‘‘

اس آڈیو ریکارڈنگ پر ایران کی سیاسی اشرافیہ میں ایک ہیجان برپا ہے۔ایران میں پاسداران انقلاب اور مقتول قاسم سلیمانی پر تنقید کو سرخ لکیرسمجھاجاتا ہے۔قاسم سلیمانی سپاہِ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کی ذمہ دار القدس فورس کے کمانڈر تھے۔ وہ جنوری 2020ء میں بغداد میں امریکا کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔