.

سعودی عرب نےکووِڈ-19 کی وَبا کے بعدمثبت معاشی اقدامات کیے:آئی ایم ایف

مملکت میں خواتین ورکروں میں 13 فی صد اضافے اور کاروباروں کی معاونت کے لیے مالی اقدامات کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سعودی عرب میں مشن نے مملکت کے کووِڈ-19 کی وَبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کو مثبت قراردیا ہے اور خواتین ورکروں کی تعداد میں 13 فی صد اضافے اور کاروباروں کی معاونت کے لیے مالی اقدامات کو سراہا ہے۔

آئی ایم ایف کے مشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب میں بے روزگاری کی شرح کم ہورہی ہے۔اس نے یہ پیشین گوئی کی ہے کہ 2021ء میں سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 2۰1 فی صد اور 2022ء میں 4۰8 فی صد رہے گی۔

سعوی وزیرخزانہ محمد الجدعان نے آئی ایم ایف کے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے سعودی حکومت کی ایک چیلنج بھرے سال میں معاشی پالیسیوں کے ٹھوس اور مثبت نتائج کی توثیق کی ہے۔

آئی ایم ایف کا کہناہے کہ گذشتہ سال کروناوائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد سعودی حکومت اور مرکزی بنک نے کاروباروں اور روزگار کے تحفظ کے لیے مالیاتی اور اقتصادی پروگرام متعارف کرائے تھے۔اس سے وَبا کے کاروباروں اور سعودی ورکروں پر اثرات کوزائل کرنے میں مدد ملی تھی۔

آئی ایم ایف کے مطابق سعودی عرب میں 2021ء میں غیرتیل جی ڈی پی کی شرح نمو 3۰9 فی صد ہونے کا امکان ہے۔2020ء میں یہ شرح 2۰3 فی صد رہی تھی۔ سعودی شہریوں میں 2020ء کی دوسری سہ ماہی میں بے روزگاری کی شرح 15۰4 فی صد ہوگئی تھی اور چوتھی سہ ماہی میں یہ کم ہوکر 12۰6 فی صد رہ گئی تھی۔

عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق سعودی عرب کو معاشی بحالی اور مزید شرح نمو کی حوصلہ افزائی کے لیے کم آمدنی والے گھرانوں پر سماجی تحفظ کے ضمن میں اخراجات کو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی مدد سے اضافی قدری ٹیکس (ویٹ) کے اثرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔

مشن کا کہنا ہے کہ مالیاتی شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے بجٹ دستاویزات کی مزید تفصیل کو شائع کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے علی الرغم مارکیٹ انفرااسٹرکچر اور قواعد وضوابط کو بہتر بنایا گیا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ پبلک سیکٹر میں سرمایہ کاری سے نئے شعبوں کی ترقی میں مدد مل سکتی ہے اور اس سے نئے نجی اداروں کے لیے مزید مواقع دستیاب ہوں گے۔سعودی عرب میں تیزرفتار اصلاحات کے نتیجےمیں مزید خواتین معاشی شعبوں میں قدم رکھ رہی ہیں۔اس کے علاوہ کفالہ نظام میں بہتری لائی گئی ہے۔

سعودی عرب میں اس وقت مقامی افرادی قوت میں خواتین کی تعداد 33 فی صد بڑھ چکی ہے۔اس سے پیداوار میں اضافے،ترقی اورگھریلو آمدن میں اضافے میں مدد ملے گی۔