.

کیٹوشیا راکٹوں پر قاسم سلیمانی کی تصویر عراقی ملیشیاؤں کے ذریعے ایک پیغام ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی عراق میں گذشتہ روز "بلد" کے فوجی اڈے کو کیٹوشیا راکٹوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں استعمال ہونے والے راکٹوں کی داغے جانے سے قبل لی گئی چند تصاویر سامنے آئی ہیں۔ ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راکٹوں پر ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسلم سلیمانی وار عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی تصویر کے اسٹیکر چپکے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں افراد جنوری 2020ء میں بغداد ہوائی اڈے کے احاطے میں امریکی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

اگرچہ اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم اس کے باوجود گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر عراقیوں کے بیچ یہ تصویر وسیع پیمانے پر پھیل گئیں۔

عراق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے کئی مبصرین یہ کہہ چکے ہیں کہ اس طرح کے حملوں کا مقصد واشنگٹن اور خطے میں امریکی فورسز کو "ایرانی" پیغام پہنچانا ہوتا ہے۔

امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کے ترجمان جون کیربی نے پیر کے روز العربیہ کو دیے گئے بیان میں عراق میں امریکی فوج پر کثیر الوقوع حملوں کے حوالے سے اپنے ملک کی تشویش کا اظہار کیا۔ تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ "ضرورت پڑنے پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا"۔

یاد رہے کہ عراقی فوج نے گذشتہ روز پیر کو جاری ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ بلد کے عسکری اڈے کو چار کیٹوشیا راکٹوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بیان کے مطابق اڈے میں امریکی کنٹریکٹر موجود ہوتے ہیں۔

حملے کے بعد عراقی سیکورٹی فورسز نے ذمے داران کی تلاش کے واسطے وسیع سرچ آپریشن کیا۔

ابھی تک کسی نے حالیہ حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ امریکی عہدے داران ماضی میں اس نوعیت کے حملوں کا ذمے دار ایران کے حمایت یافتہ عراقی مسلح گروپوں کو ٹھہراتے رہے ہیں۔