.

بیلجیئم کی اپیل عدالت سے ایرانی سفارت کار کو 20 سال قید کی حتمی توثیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیئم کی ایک اپیل عدالت نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں تین سال قبل بم دھماکوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ایرانی سفارت کار اسداللہ اسدی کو 20 سال قید کی سزا کی توثیق کر دی ہے۔

بیلجیئم کے شہر انٹورپ کی ایک فوجی عدالت نے ملزم اسداللہ اسدی کو گذشتہ فروری میں 20 سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے بعد اسدی کے وکیل نے سزا کے خلاف اپیل کا فیصلہ کیا تھا تاہم بعد ازاں وکیل نے اپیل کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔

اسداللہ اسدی پر الزام تھا کہ اس نے سنہ 2018ء کے موسم گرما میں پیرس کے قریب ایرانی اپوزیشن کے ایک اجلاس کے دوران بم دھماکے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ملزم کے وکیل کی طرف سے اپنے موکل کو دی گئی سزا کے خلاف اپیل کا فیصلہ واپس لینے کے بعد اپیل عدالت نے ملزم کی 20 سال قید کی سزا حتمی قرار دیتے ہوئے ملزم کو بیس سال کے لیے جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

اپیل واپس لینے کی وجوہات

ایرانی سفارت کار کے وکیل دیمتری ڈی بیکو نے 'العربیہ' اور 'الحدث' ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے مؤکل نے سزا کے خلاف اپیل کے فارم پر دستخط نہیں کیے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپیل کے اپنے حق سے خود ہی دستبردار ہو گئے تھے۔ رواں سال فروری میں فوج داری عدالت کے فیصلے سے اس کیس کے تین دیگر ملزمان نے ممکنہ سزا کے خلاف اپیل کا عزم ظاہر کیا تھا۔

بیلجیئم کی فوج داری عدالت نے 11 اور 12 نومبر 2020ء کو تینوں ملزمان کا دوبارہ ٹرائل کا فیصلہ کیا تھا۔ ملزمان میں دو میاں بیوی 36 سالہ نسیمہ نعامی اور اس کے شوہر 40 سالہ امیر سعدونی جب کہ تیسرے ملزم 57 سالہ مہرداد عارفانی کا دوبارہ ٹرائل کیا گیا۔

po
po

جہاں تک ایرانی سفارت کار کے وکیل کے ذریعہ پیش کردہ اپیل فارم واپس لینے کی وجوہ کی بات ہے تو وہ اس اپیل کی درخواست میں قانونی نقص ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ اسداللہ اسدی کو یقین ہو کہ اپیل عدالت بیلجیئم کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت قید کی کم سے کم سزا 20 سال ہی قرار دے گی۔ ایسی صورت میں اپیل کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

اپوزیشن کو دھماکے سے اڑانا

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اپیلوں کی سماعتوں میں دہشت گردی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سہولت کاروں کو بھرتی کرنے میں ایرانی سفارت کار کے کردار کے معاملے پر ایک بار پھر روشنی ڈالی جائے گی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ملزم کے پاس اپیل عدالت کے سامنے شکایت درج کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

ایرانی سفارت کار اسداللہ اسدی کے خلاف مقدمہ کی کارروائی گذشتہ برس انٹورپ کی ایک فوجی عدالت میں شروع ہوئی تھی۔ عدالت نے ملزم کو پیرس کے قریب ایرانی اپوزیشن کے ایک اجتماع میں بم دھماکے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس سازش کے سامنے آنے کے بعد ایران اور فرانس کے درمیان سفارتی کشیدگی بھی پیدا ہوئی۔

op
op

فرانس نے اکتوبر 2018ء کو الزام عاید کیا تھا کہ پیرس کےقریب دھماکوں کی منصوبہ بندی میں ایرانی انٹیلی جنس کا ہاتھ ہے۔ بیلجیئم پولیس نے 30 جون 2018ء کو ایران کی قومی مزاحمتی کونسل کے سالانہ اجتماع پر حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا تھا۔ اس اجتماع میں ایرانی اپوزیشن مجاھدین خلق اور دوسرے گروپ شرکت کر رہے تھے۔