.

سعودی شاہ سلمان کا ترک صدر سے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے بدھ کو ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ترک صدر نے خادم الحرمین الشریفین سے بات چیت کرتے ہوئے انھیں عید الفطر کی پیشگی مبارک باد پیش کی ہے۔

سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تعلقات 2018ء میں صحافی جمال خاشقجی کے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کے واقعے کے بعد سے تناؤ کا شکار چلے آرہے ہیں لیکن حالیہ مہینوں کے دوران میں ترکی نے سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں۔

ترک صدر کے ترجمان اور مشیر ابراہیم کالین نے اپریل میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’ہم سعودی عرب سے تعلقات کو زیادہ مثبت ایجنڈے کے ساتھ بہتر بنانا چاہتے ہیں۔‘‘

انھوں نے سعودی عرب میں ایک عدالت میں گذشتہ سال جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمہ کی سماعت کا خیرمقدم کیا۔اس مقدمے میں ماخوذ آٹھ افراد کو جیل کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

ابراہیم کالین نے کہا کہ ’’ان (سعودی عرب) کی اپنی ایک عدالت ہے،وہاں مقدمہ چلایا گیا ہے۔انھوں نے ایک فیصلہ کیا اور ہم اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔‘‘

ترک وزیرخارجہ مولود شاوش اوغلو نے بھی مارچ میں کہا تھا کہ ترکی اور سعودی عرب نے ’’مکالمے‘‘ کو جاری رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔انھوں نے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے گذشتہ سال نومبرمیں اپنی ملاقات کو مفید اور تعمیری قراردیا تھا۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق وزیرخارجہ نے کہا کہ ’’ہمارے پاس ایسا کوئی جواز نہیں کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی نہ لائیں۔اگر وہ کوئی مثبت قدم اٹھاتے ہیں تو ہم بھی ایسا کریں گے۔‘‘

انھوں نے واضح کیا تھا کہ ’’ترکی نے کبھی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے پر سعودی عرب کی قیادت کو موردالزام نہیں ٹھہرایا۔‘‘