.

فرانسیسی وزیرخارجہ کی دورۂ بیروت سے قبل لبنانی سیاست دانوں کو دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیرخارجہ ژاں وائی ویس لودریان جمعرات کو لبنانی سیاست دانوں کے لیے ایک سخت پیغام لے کر بیروت آرہے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ لبنان میں سیاسی عمل میں رکاوٹیں کھڑے کرنے والے سیاست دانوں کے خلاف تعزیری اقدامات کیے جائیں گے۔

ان کے دورے سے قبل پیرس حکومت نے کہا ہے کہ اس نے لبنان میں سیاسی عمل میں حائل ہونے والے سیاست دانوں کے فرانس میں داخلے کو روکنے کے لیے اقدامات کا آغاز کردیا ہے۔

لودریان نے بدھ کوایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ’’لبنان میں حکومت کی تشکیل میں رکاوٹ بننے والوں سے ہم سختی کررہے ہیں۔ہم قومی اقدامات کررہے ہیں اور یہ صرف ابھی ایک آغاز ہے۔‘‘

تاہم انھوں نے اس امر کی وضاحت نہیں کی کہ فرانس لبنانی سیاست دانوں کے خلاف کیا اقدامات کرنے والا ہے۔ فرانسیسی حکومت نے بھی نے اس ضمن میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

فرانس لبنان کو درپیش سنگین مالی اور سیاسی بحران سے نجات دلانے کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں پیش پیش ہے۔لبنان 1975ء-1990ء کی خانہ جنگی کے بعد ایک مرتبہ پھر بدترین بحران سے دوچار ہے اور اس کا بہ طور ریاست دیوالا نکلنے کو ہے لیکن لبنانی سیاست دان گذشتہ آٹھ ماہ سے ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے کوئی پیش رفت نہیں کرسکے ہیں۔

لبنانی سیاست دانوں کے اس طرزعمل سے فرانسیسی قیادت مایوس ہوتی جارہی ہے۔اسی لیے اب وہ ان کے خلاف وزیرخارجہ لودریان کے بہ قول قومی اقدامات کرنے والی ہے۔ان کے تحت لبنانی سیاست دانوں کی فرانسیسی علاقے تک رسائی معطل کر دی جائے گی۔

فرانس کے ان تعزیری اقدامات کے لبنانی سیاست دانوں کی بین الاقوامی نقل وحرکت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کیونکہ بہت سے لبنانی سیاست دان دُہری شہریت کے حامل ہے جبکہ جن سیاست دانوں پر حکومت سازی کے عمل میں روڑے اٹکانے کا الزام عایدکیا جارہا ہے،ان میں کم ہی فرانس کا سفر کرتے ہیں۔

فرانسیسی وزیرخارجہ بیروت میں لبنانی صدر میشیل عون ،شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے اتحادی اور پارلیمان کے اسپیکر نیبہ بری سے ملاقات کریں گے۔ تاہم حکام نے نامزد وزیراعظم سعدالحریری سے ان کی ملاقات کی تصدیق سے انکار کیا ہے۔