.

ایران امریکا سے جوہری سمجھوتے کے لیے غیرحقیقی مطالبات سے دستبردار ہوجائے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور ایران کے درمیان اسی ہفتے ویانا میں مذاکرات کا چوتھا دور شروع ہورہا ہے۔اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیر عہدہ دار نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایران اپنے ’’غیرحقیقی مطالبات‘‘سے دستبردار ہوگا؟

اس عہدہ دار کا کہنا ہے:’’ایرانیوں نے ابھی تک اس بات چیت میں اس امرسے اتفاق نہیں کیا کہ وہ 2015ء میں عالمی طاقتوں سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کیا اقدامات کریں گے؟‘‘

اس اعلیٰ افسر کے بہ قول اب تک ویانا میں ایران اور امریکا کے درمیان تعمیری بات چیت ہوئی ہے لیکن انھوں نے امریکا کے ان شکوک کا اعادہ کیا ہے کہ آیا اس کو اب بھی ایران کی جانب سے بعض پابندیاں ختم کرنے سے متعلق غیرحقیقی مطالبات کا سامنا ہوگا اور کیا ایرانی جوہری سمجھوتے کی پاسداری سے متعلق غیرحقیقی وعدے ہی کریں گے۔

ان صاحب کا کہنا ہے کہ ’’امریکا اور ایران کے درمیان بدستور خلیج موجود ہے لیکن اگر ایران سنجیدگی ظاہرکرے تو پھر کوئی سمجھوتا طے پاسکتا ہے۔‘‘

ویانا میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکا کے خصوصی ایلچی راب میلے وفد کی قیادت کریں گے۔طرفین نے مذاکرات کے سابقہ تین ادوار میں یہ غورکیا تھا کہ وہ سمجھوتا طے پانے کی صورت میں مزید کیا کیا اقدامات کریں گے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا ایران میں آیندہ ماہ صدارتی انتخابات سے قبل کسی ڈیل کا امکان ہے؟اس پر اس عہدہ دار کا کہنا تھا کہ ’’ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کیا ایسی ڈیل ممکن ہے کیونکہ اس ضمن میں ایران میں کوئی سیاسی فیصلہ ہونا چاہیے۔‘‘

ایران کے سرکاری میڈیا نے گذشتہ اتوار کو لبنان سے نشریات پیش کرنے والے المیادین ٹی وی کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایران میں قید چار امریکیوں کی رہائی کے لیے ایک سمجھوتا طے پاگیا ہے۔ان کے بدلے میں امریکا چار زیر حراست ایرانیوں کو رہا کردے گا اور امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے 7 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز بھی جاری کردے گا۔

لیکن امریکی عہدہ دار نے ایسے من گھڑت رپورٹس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایرانی حکام اس عمل کے ذریعے ایک ناقابل بیان سفاکیت کا حصہ بن گئے ہیں۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی بھی ایسی رپورٹس کی تردید کرچکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے متعلق کوئی سمجھوتا طے نہیں ہوا، جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے مذاکرات کا یرغمالیوں کی رہائی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بالکل الگ معاملہ ہے۔

ادھرامریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے یوکرین میں ایم ایس این بی سی سے ایک انٹرویو میں اس عہدہ دار کے مؤقف کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’ہم اب تک جو بات نہیں جانتے ہیں، وہ یہ کہ کیا ایران جوہری سمجھوتے کی پاسداری کے لیے درکار فیصلے کرنے کو تیار ہے۔بدقسمتی سے انھوں نے اپنے جوہری پروگرام کے خطرناک حصوں پر دوبارہ کام شروع کردیا ہے حالانکہ وہ جوہری سمجھوتے کے تحت ایسا نہیں کرسکتے۔‘‘