.

سعوی عرب میں کووِڈ-19 کی ویکسین لگوانے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کروناوائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوانے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ گئی ہے۔

اس وقت سعودی عرب بھرمیں 587 ویکسی نیشن مراکزکام کررہے ہیں۔وہاں شہریوں اور مکینوں کو کووِڈ-19 کی ویکسینیں مفت لگائی جارہی ہیں۔سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ویکسین لگانے کے لیے مزید مراکز بھی کھولے جارہے ہیں۔

وزارت نے سعودی شہریوں اور تارکِ وطن مکینوں پرزوردیا ہے کہ وہ صحتی ایپ پر اپنے ناموں کا اندراج کریں تاکہ انھیں دستیاب ویکسینوں میں سے کسی ایک کے انجیکشن لگائے جاسکیں۔

وزارت نے لوگوں پر زوردیا ہے کہ وہ کروناوائرس سے محفوظ رہنے کے لیے ویکسین لگوائیں،بالخصوص جو افراد لوگوں کے ہجوم یااجتماعات میں اپنا زیادہ وقت گزارتے ہیں،انھیں ضرور ویکسین لگوانی چاہیے۔

وزارتِ صحت نے چند روز قبل کہا تھا کہ سعودی عرب میں حاملہ خواتین اب کرونا وائرس کی ویکسین لگوانے کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کراسکتی ہیں اور خصوصی سائنسی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں اب حاملہ خواتین کے لیے کووِڈ-19 کی ویکسینیں دستیاب ہیں۔

اس نے حالیہ مطالعات کی روشنی میں کہا ہے کہ ’’ویکسین سے کسی حاملہ خاتون یااس کے پیٹ میں نشوونما پانے والے جنین کو کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں لیکن اگر وہ اس حالت میں کروناوائرس کا شکار ہوجاتی ہے تو اس سے نہ صرف سنگین قسم کی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں بلکہ اس سے اس کے حمل کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔‘‘

سعودی وزارت صحت کے اس اعلان سے قبل حمل کے دوران میں کووِڈ-19 کی ویکسین لگوانے سے متعلق ایک وسیع ترتحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی تھی۔اس میں تحقیقی شواہد کی روشنی میں یہ بتایا گیا تھا کہ ویکسین حاملہ خواتین کے لیے بھی عام عورتوں کی طرح محفوظ ہے۔

اس رپورٹ کے ابتدائی نتائج امریکا میں حمل کے دوران میں ماڈرنا یا فائزر میں سے کسی ایک کی ویکسین لگوانے والی 35 ہزارخواتین سے حاصل کردہ ڈیٹا سے اخذ کیے گئے ہیں۔

امریکا کی سوسائٹی برائے تولیدی میڈیسن نے بھی الگ سے اس امرکی توثیق کی ہے کہ حاملہ خواتین کووِڈ-19 کی ویکسین لگوا سکتی ہیں۔سوسائٹی امریکا میں گذشتہ ایک سال سے کووِڈ-19 کی ویکسین کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔