.

قاہرہ:مصراورترکی کے درمیان دوطرفہ تعلقات اورعلاقائی امور پر تفصیلی بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر اور ترکی نے قاہرہ میں دوطرفہ تعلقات اورعلاقائی امور کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی ہے اور اس کی بنیاد پر مزید اقدامات سے اتفاق کیا ہے۔

قاہرہ میں دوروزہ بات چیت کے بعد جمعرات کو جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’طرفین مشاورت کے اس دور کے نتائج کا تجزیہ کریں گےاورانھوں نے آیندہ کے اقدامات سے اتفاق کیا ہے۔‘‘

ان مذاکرات میں ترکی اور مصر کے نائب وزرائے خارجہ کی قیادت میں وفود شریک تھے۔دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ کئی سال کے بعد اعلیٰ سطح پرباضابطہ طور پر یہ پہلا براہِ راست ٹاکرا ہے۔

ترکی خطے میں امریکا کے اتحادی عرب ممالک کے ساتھ اپنے اختلافات کی خلیج پاٹنا چاہتا ہے اور ان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے لیکن مصر نے اب تک ترکی کی جانب سے شاخِ زیتون پیش کیے جانے کے ردعمل میں کسی زیادہ جوش وخروش کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔

مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ملکوں کے وفود نے لیبیا ، شام ، عراق کی صورت حال اور بحرمتوسط کے خطے کے ممالک میں امن وسلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

مصر کے دو انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا ہے کہ ترکی مصری اور لیبی حکام کے ساتھ ایک سہ فریقی اجلاس کو بھی تیار ہے تاکہ لیبیا میں غیرملکی جنگجوؤں کی موجودگی سمیت متنازع امور کو طے کیا جاسکے۔

ترکی نے جمعرات کو الگ سے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ لیبیا سے تمام غیرملکی جنگجوؤں کے انخلا سے متفق ہے اور انھیں وہاں سے واپس چلے جانا چاہیے لیکن اس کا لیبی حکومت کے ساتھ ایک سمجھوتا ہے،اس کے تحت ترک فوجی لیبیا ہی میں تعینات رہیں گے۔

ذرائع کے مطابق مہمان وفد نے مصری میزبانوں کو یہ بھی بتایا ہے کہ الاخوان المسلمون کے ترکی میں مقیم لیڈروں کو مصر کے حوالے نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ اب وہاں قانونی طور پر مقیم ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی اور مصر کے درمیان 2013ء میں الاخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمدمرسی کی حکومت کی معزولی کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ترک صدر طیب ایردوآن کی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (آق) مصرکی قدیم مذہبی سیاسی جماعت الاخوان المسلمون کی اتحادی اور مددگاررہی ہے۔

مصری صدرعبدالفتاح السیسی کی حکومت نے الاخوان المسلمون کوصدر مرسی کی معزولی کے بعد دہشت گرد قراردے دیا تھا اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی عاید کردی تھی۔اس کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے سفیروں کو نکال دیا تھا اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو ایک طاغوت قراردیا تھا۔

مصری سکیورٹی فورسز نے الاخوان کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا تھا۔ان معاندانہ کارروائیوں کے بعد الاخوان کے بہت سے لیڈر اور کارکنان ملک سے نقل مکانی کرکے ترکی چلے گئے تھے اور انھوں نے تب سے وہاں سیاسی پناہ لے رکھی ہے۔ترک حکومت نے ان میں سے بعض کو مستقل اقامت کے حقوق تفویض کردیے ہیں۔

مصر اور ترکی کے درمیان آبی حدود اور آف شور قدرتی وسائل پر تنازعات کے علاوہ لیبیا میں جاری خانہ جنگی کے بارے میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ دونوں ملک لیبیا میں متحارب گروپوں کی حمایت کررہے ہیں۔مصر لیبیا کے مشرقی شہر بنغازی سے تعلق رکھنے والے جنرل خلیفہ حفتر اور ان کے زیر قیادت لیبی قومی فوج کی حمایت کررہا ہے جبکہ ترکی طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت کا حامی ہے۔

ترکی مصر میں الاخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دینے کا بھی مخالف ہے حالانکہ اس نے اپنی سرزمین سے نشریات پیش کرنے والے مصری حزب اختلاف کے ملکیتی چینلوں سے کہا ہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی پر تنقید کم کردیں۔

ترک حکام نے قاہرہ مذاکرات کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔تاہم ترکی کے نائب صدر فواد عکتے نےایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انقرہ صرف مصر ہی نہیں بلکہ خطے کے ہر ملک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کو تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر مصر اور ترکی مل کر آگے بڑھتے ہیں تو وہ خطے میں امن وترقی میں اہم کردار ادا کریں گے اور ان شاء اللہ مستقبل میں ایسا ہوگا۔‘‘