.

وادی گولان میں اسرائیلی بمباری میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا: المرصد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے 'سیرین آبزر ویٹری' کی طرف سے جاری ایک بیان میں‌کہا گیا ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام کے وادی گولان کے علاقے میں بمباری کے دوران شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

المرصد نے سماجی کارکنوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام کے جنوبی شام میں اسرائیلی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب لبنانی حزب اللہ کے انٹیلی جنس اور فیلڈ آبرزور سیل کو نشانہ بنایا۔ اس گروپ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی طیاروں نے جباتا الخشب، شمالی قنیطرہ اور وادی گولان کےقریب بمباری کی۔
انسانی حقوق گروپ کے مطابق اسرائیلی ہیلی کاپٹروں سے ایک عسکری کیمپ پر دو میزائل داغے گئے جن میں کم سےکم تین جنگجو زخمی ہوگئے۔ تاہم زخمی ہونے والوں کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا وہ شامی فوجی تھے یا حزب اللہ کے سراغ رساں سیل کے ارکان تھے۔

قبل ازیں بدھ کے روز ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے ٹھکانوں پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں حمص کے قریب ام العمد کے مقام پر ایک جنگجو ہلاک ہوگیا تھا۔

طرطوس اور اللاذقیہ کو ملانے والی شاہراہ عام پر جبلہ کے مقام پر کی گئی بمباری میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے۔

شامی سرکاری ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ یہ دھماکے اسرائیلی میزائل حملے کے نتیجے میں ہوئے۔ حملے میں الاذقیہ اور حماہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

یاد رہے کہ اگرچہ گذشتہ چند برسوں کے دوران میں اسرائیل نے شام میں بہت سے علاقوں کو نشانہ بنایا تاہم حمیمیم کے روسی فوجی اڈے کے نزدیک لاذقیہ کو نشانہ بنانا ایک نادر بات ہے۔

حالیہ چند ماہ کے دوران میں اسرائیل نے شام کے اندر ایرانی اہداف کے خلاف حملوں کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ مغربی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ان حملوں میں بنیادی طور پر ہتھیاروں سے متعلق تحقیقی مراکز، گولہ بارود کے گوداموں اور لبنان سے شام میزائلوں کے واسطے عسکری قافلوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔