.

افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا سے 17 ہزار مترجمین کی زندگی خطرے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے رواں سال 11 ستمبر تک افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کی واپسی کے فیصلے کے نتیجے میں ہزاروں افغان مترجمین کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

'فاکس نیوز' نیٹ ورک کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 11 ستمبر 2021ء تک افغانستان میں موجود تمام امریکی فوجیوں کی واپسی کے نتیجے میں شدت پسند تحریک طالبان کی جانب سے امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے 17 ہزار مترجمین کے اغوا اور قتل کا خدشہ ہیں۔

امریکی رکن کانگریس مائیکل میک کال نے کہا ہے کہ افغان ترجمانوں کو اندازہے کہ امریکی فوج کی واپسی کے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک ہوسکتا ہے۔ اگر امریکا ان کی مدد نہیں کرتا ہے تو انہیں ایک تکلیف دہ انجام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

میک کال کا مزید کینا تھا کہ یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم امریکی فوج یا امریکی اداروں کے ساتھ کام کرنےوالے افغان ترجمانوں کو القاعدہ اور طالبان سے تحفظ فراہم کریں۔ اگر ہم نے انہیں ویزے نہیں دیے تو دشمن انہیں 'ذبح' کردے گا۔

امریکی کانگریس کے ایک دوسرے رکن وریان کروکر جو سابق صدر باراک اوباما کے دور میں افغانستان میں امریکی سفیر بھی رہ چکے ہیں نے اخبار 'نیویارک ٹائمز' کو بتایا کہ سنہ 2014ء سے طالبان انہیں خائن سمجھتے ہیں۔ ہمارے ساتھ کام کرنے والے افغانوں پر قتل سمیت 300 حملے ہوسکتے ہیں۔ اگر ہم نے انہیں فوری تحفظ فراہم نہ کیا تو ان میں سے بیشتر کو قتل کردیا جائے گا۔

ایک دوسرے امریکی رکن کانگریس مائیک والٹز نے کہا کہ ترجمانوں کا انجام تاریک ہے۔ دشمن ان کا تعاقب کرتا ہے۔ وہ ہم سے رابطے میں ہیں۔ میںں واضح‌کردوں کہ افغانستان میں امریکیوں‌کے لیے ترجمانی کرنےوالوں کی زندگی خطرے میں ہے اور وہ خوف کا شکار ہیں۔

اسماعیل خان ان ہزاروں افغان مترجموں میں سے ایک ہیں۔ وہ سات سال سے امریکی فوج کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے 17 ہزار مترجموں اور ان کے خاندانوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔