.

ایرانی مرشد عام کی صحت سے متعلق ابلاغی چہ مگوئیوں سے تہران کی مشکلات میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران انٹرنیشنل نامی ویب پورٹل نے اسرائیل کے چینل 12 پر اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار کے نشر ہونے والے بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کے مرشد عام کی صحت بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے ایران میں غیر متوقع نئی صورت حال پیدا ہونے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

اس سے پہلے ذرائع ابلاغ میں علی خامنہ ای کی اچانک موت کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے منصوبے نشر ہوتے رہے ہیں۔ ایران کے 82 سالہ بزرگ راہنما ملک کی سرکردہ سیاسی اتھارٹی ہیں۔ ایسے میں ان کے انتقال کے بعد یہ منصب کس کو سونپا جایے گا، اس سوال کا جواب انتہائی پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔

مجتبى خامنہ ای اپنے والد مرشد اعلیٰ پس منظر میں جنرل وحيد حقانيان نمایاں ہیں
مجتبى خامنہ ای اپنے والد مرشد اعلیٰ پس منظر میں جنرل وحيد حقانيان نمایاں ہیں

ایرانی انقلاب کے بانی خمینی کے بعد علی خامنہ ای دوسرے مرشد اعلیٰ ہیں۔ اس منصب کے لیے چناؤ 88 علما دین اور مجلس خبراء کرتی ہے۔
مجلس الخبراء کا چناؤ آٹھ سال کی مدت کے لیے ایرانی عوام کرتے ہیں۔ لیکن مجلس الخبراء میں شمولیت کے خواہش مند افراد دستوری کونسل کی سکروٹنی کے بعد ہی اس کے اہل سمجھے جاتے ہیں۔ اس کونسل کے ارکان کا چناؤ براہ راست با بالواسطہ طریقے سے مرشد اعلیٰ کرتے ہیں۔

ایران کے دستور کی روشنی میں مجلس الخبراء کی قیادت مرشد اعلیٰ کا براہ راست انتخاب کرنے کی مجاز ہے۔ انہیں اس منصب سے مجلس الخبراء ہی ہٹانے کی مجاز ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ منصبی ذمہ داریاں ادا کر سکنے کے قابل نہ رہیں۔

ایرانی حکومتی حلقوں میں مرشد اعلیٰ کے جانشین سے متعلق لڑائی کی حدت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبی خامنہ ای کو ان کی جگہ مرشد اعلی کے منصب کے لیے سیاسی، دینی اور پاسداران کے حلقوں میں سب سے زیادہ طاقتور امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔