.

حوثیوں نے صنعاء کا ایک سب سے بڑا شاپنگ مال گرا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے تازہ کارستانی کے طور پر ملیشیا کے ارکان نے دارالحکومت صنعاء میں ایک سب سے بڑے شاپنگ مال کو منہدم کر دیا ہے۔ یہ کارروائی نجی سیکٹر اور کاروباری افراد کے خلاف جاری جنگ کے سسلسلے میں سامنے آئی ہے۔

یمنی سماجی کارکنان نے اتوار کی شب سوشل میڈیا پر بعض وڈیو مناظر پوسٹ کیے۔ ان میں حوثی ملیشیا کے زیر انتظام بلڈوزروں اور مشینوں کو دارالحکومت میں ایک سب سے بڑے شاپنگ مال کو گراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق گرایا جانے والا 'العرب مال' صنعاء کے علاقے الخمسین میں واقع ہے۔ یہ ایک یمنی تاجر المطحنی کی ملکیت ہے۔ حوثی ملیشیا نے العرب مال کو گرانے کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ تعمیراتی اراضی کے حوالے سے اختلافات ہیں اور یہ جگہ متنازع ہے۔ تاہم اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ حوثی ملیشیا رمضان کے آغاز سے ہی المطحنی کو بھتے کی وصولی کے لیے بلیک میل کر رہی تھی۔ آخر کار ناکام ہو جانے کے بعد پھر ملیشیا نے مال کو گرا دینے کا اقدام کیا۔

واضح رہے کہ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی حوثی ملیشیا نے "زکات" کے نام پر تاجروں اور نجی کمپنیوں سے بھاری رقوم بٹورنا شروع کر دی تھیں۔

اس سے قبل یمنی وزیر اعظم نے ہفتے کے روز منعقد ایک ورچوئل اجلاس میں عالمی برداری سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی ملیشیا کی جانب سے امن منصوبوں اور تجاویز کو بار بار مسترد کر دینے کے حوالے سے سخت اور دو ٹوک موقف اختیار کرے ،،، علاوہ ازیں اس دہشت گرد تنظیم کو ایران کے ایجنڈے اور منصوبے پر عمل کرنے سے روکے۔ یمنی وزیر اعطم نے عالمی برادری کے موقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے صرف حوثی ملیشیا اور تہران میں اس کے حامیوں کو یمن میں انسانی المیے کو سنگین تر بنانے کا موقع مل رہا ہے۔