.

مسجد اقصی کے صحنوں میں کشیدگی ، حالیہ واقعات پر امریکا کا تشویش کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ کے نمائندے کے مطابق آج پیر کے روز مسجد اقصی کے صحنوں میں جھڑپیں شروع ہونے کے بعد مشرقی بیت المقدس میں ایک بار پھر ماحول کشیدہ ہو گیا ہے۔

اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصی میں اعتکاف کے لیے موجود افراد کی سمت ربڑ کی گولیاں چلائیں۔ اس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔

بعد ازاں فلسطینی نوجوانوں اور مسجد اقصی کے صحنوں پر دھاوا بولنے والی اسرائیلی سیکورٹی فورس کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

دوسری جانب واشنگٹن نے مشرقی بیت المقدس کے حالیہ واقعات اور جھڑپوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون نے گذشتہ شام ٹیلی فون پر اپنے اسرائیلی ہم منصب مئیر بن شبات سے گفتگو کی۔ بات چیت میں سولیون نے بیت المقدس کی صورت حال کے حوالے سے امریکا کی سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا۔ امریکی عہدے دار نے الیشخ جراح کے علاقے میں فلسطینی خاندانوں سے ان کے گھروں کو خالی کرانے کی ممکنہ کارروائیوں پر بھی امریکا کی تشویش سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ حالات پر سکون بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔

یاد رہے کہ بیت المقدس میں مرکزی عدالت نے مذکورہ علاقے میں فلسطینیوں کی متعدد جائیدادوں کو خالی کرانے کا فیصلہ جاری کیا تھا۔ اردن نے 1948ء میں جبری ہجرت کا شکار ہونے والے فلسطینیوں کو ٹھکانا دینے کے لیے یہ محلہ آباد کیا تھا۔ یہاں کے فلسطینیوں کے پاس کرائے کے معاہدے بھی موجود ہیں۔