.

یو اے ای میں پاکستان،بنگلہ دیش،نیپال اورسری لنکا کے مسافروں کا 12 مئی سے داخلہ بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے کووِڈ-19 کی وَبا کے پیش نظر پاکستان ، بنگلہ دیش ، نیپال اور سری لنکا سے آنے والے تمام مسافروں کے 12 مئی سے ملک میں داخلے پر پابندی عاید کردی ہے۔

اماراتی حکومت کے فیصلے کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق بدھ کی شب 11:59 سے ہوگا اور قومی یا بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے طیاروں سے آنے والے مسافروں کا داخلہ عارضی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔

اس فیصلے کا اطلاق بنگلہ دیش ، پاکستان ، نیپال اور سری لنکا میں گذشتہ 14 روز کے دوران میں مقیم رہنے والے مسافروں پر ہوگا۔وہ اگر کسی پرواز سے یو اے ای میں آتے ہیں تو انھیں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تاہم یو اے ای اور ان ممالک کے درمیان تجارتی پروازیں معمول کے مطابق جاری رہیں گی اور ان کے ذریعے یواے ای سے ان ممالک تک مسافروں کو لے جانے کی اجازت ہوگی۔اس کے علاوہ مذکورہ ممالک کے استثنائی گروپوں سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو بھی یو اے ای میں آنے کی اجازت ہوگی۔البتہ اس ضمن میں کووِڈ-19 کی سخت حفاظتی احتیاطی تدابیر کا اطلاق کیا جائے گا۔

ان گروپوں میں یو اے ای کے شہری ، ان چاروں ممالک میں متعیّن یواے ای کے سفارت کار، سرکاری وفود،چارٹر پروازوں پر آنے والے کاروباری افراد اور گولڈن اقامتی ویزا کے حاملین شامل ہیں۔انھیں یو اے ای میں آمد کے بعد سخت حفاظتی احتیاطی تدابیر کی پاسداری کرنا ہوگی، 10روز تک قرنطین میں رہنا ہوگا اور ہوائی اڈے پر اپنا پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوگا۔اس کے علاوہ چوتھے اور آٹھویں روز دوبارہ پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوگا۔

مزید برآں اماراتی حکام نے پی سی آر ٹیسٹ کا دورانیہ 72 گھنٹے سے کم کرکے 48 گھنٹے کردیا ہے۔یو اے ای کے سفرپر روانہ ہونے والے مسافروں کو 48 گھنٹے قبل منظورشدہ لیبارٹریوں سے پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوگا۔اس کے جاری کردہ ٹیسٹ نتائج کے ساتھ کیو آر کوڈ ہونا چاہیے۔

یو اے ای کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ بنگلہ دیش ، پاکستان ، نیپال اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے مسافراگر کسی اور ملک سے آتے ہیں تو انھیں بھی ان ممالک میں 14 روز تک قیام کی صورت میں پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوگا اور پھرانھیں ملک میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔یواے ای اور ان ممالک کے درمیان مال بردار طیاروں کی پروازیں حسبِ معمول جاری رہیں گی۔

اتھارٹی نے اس فیصلے سے متاثر ہونے والے تمام مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی پروازوں کے شیڈول میں تبدیلی کے لیے متعلقہ فضائی کمپنی سے رابطہ کریں اور بلا تاخیر اپنی جائے منزل پر محفوظ واپسی کو یقینی بنائیں۔