.

یواےای : طبی عملہ کووِڈ-19 کی بھارتی شکل سے نمٹنے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ کووِڈ-19 کی بھارت میں جنم لینے والی نئی قسم سے نمٹنے کو تیار ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کووِڈ-19 کے مریضوں کے لیے اسپتالوں میں طبی عملہ ،اضافی بستر اور آکسیجن دستیاب ہے۔

بھارت میں اس وقت کووِڈ-19 کی نئی شکل بی۰1۰617 کے کیسوں کی یومیہ تعداد میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے اور روزانہ اس کے سیکڑوں نئے کیس سامنے آرہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ بی۰1۰617 کا بھارت میں سب سے پہلے گذشتہ سال دسمبر میں پتا چلا تھا اور اس کی ابتدائی شکل کا اکتوبر 2020ء میں سراغ ملا تھا۔

ڈبلیو ایچ او نے 10 مئی کو کووِڈ-19 کی اس شکل کو باعث تشویش قراردیا ہے۔اسی درجہ بندی میں متعدد دوسری قسمیں بھی شامل ہیں۔ان میں برطانیہ ، برازیل اور جنوبی افریقا میں سامنے آنے والی کروناوائرس کی نئی قسمیں شامل ہیں۔بعض مطالعات کے مطابق بھارتی شکل کا وائرس زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔

تاہم ڈبلیو ایچ او کی کووِڈ-19 کی ٹیکنیکل کمیٹی کی سربراہ ماریا وان کرخوف کا کہنا ہے کہ بھارتی شکل کے پھیلنے کے رجحان کو سمجھنے کے لیے ابھی مزید معلومات درکار ہیں۔

لیکن یو اے ای میں ڈاکٹروں نے شہریوں اور مکینوں کو اطمینان دلایا ہے کہ انھیں اس وائرس سے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

برین انٹرنیشنل اسپتال ایم بی زیڈ سٹی میں داخلی میڈیسن کے ماہر عظیم عبدالسلام محمد کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی بھارتی شکل کی دنیا کے17 ممالک میں موجودگی کا پتا چلا ہے۔ان ممالک میں برطانیہ ، امریکا اور سنگاپور بھی شامل ہیں۔بھارت میں اس نئی شکل کے سامنے آنے والے کیس سیاسی ریلیوں اور مذہبی اجتماعات میں لوگوں کے آپس میں گھلنے ملنے کا نتیجہ ہیں کیونکہ لوگوں نے چہرے پر ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی پابندیوں کی پاسداری نہیں کی تھی۔