.

اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں وسیع آپریشن کی تیاری کر رہی ہے: العربیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس (غزہ پر حکم راں) کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس دوران شدید ترین متبادل بم باری کے نتیجے میں اب تک 35 فلسطینی شہید اور 5 اسرائیلی مارے جا چکے ہیں۔ العربیہ کے نمائندے کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں اپنا آپریشن وسیع کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی فضائیہ کا ایک چھاتہ بردار ڈویژن غزہ کے اطراف گامزن ہے۔

اسرائیلی فوج نے حماس تنظیم کی عسکری انٹیلی جنس سیکورٹی کے سربراہ کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔ فوج نے آج بدھ کی صبح بتایا کہ غزہ کی پٹی میں فضائی حملوں کے دوران میں حماس کے دو اہم کمانڈر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ادھر اسرائیلی پولیس کے مطابق غزہ سے ہونے والی راکٹ باری کے نتیجے میں مزید دو افراد ہلاک ہو گئے۔ دوسری جانب مصر غزہ کی پٹی میں زیادہ بڑے اسرائیلی وسکری آپریشن کو روکنے کے لیے وسیع پیمانے پر رابطوں میں مصروف ہے۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بھرپور میزائل حملے میں غزہ کی پٹی میں پولیس اور حکومتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ غزہ میں وزارت داخلہ کے ترجمان ایاد البزم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں کے پے در پے حملوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں پولیس کمان کے صدر دفتر کی تمام عمارتیں تباہ ہو گئیں۔

ادھر اسرائیلی پولیس کے اعلان کے مطابق غزہ کی پٹی سے داغا جانے والا ایک راکٹ اسرائیل کے شہر لُد میں ایک گاڑی کو لگا۔ اس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود ایک مرد اور ایک لڑکی مارے گئے۔ اس طرح پیر کی شام سے غزہ کی پٹی سے جاری راکٹ باری میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق کشیدگی کے آغاز کے بعد سے اب تک غزہ کی پٹی سے 1000 سے زیادہ راکٹ داغے جا چکے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ تل ابیب نے فائر بندی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کی گئی تجویز مسترد کر دی ہے۔

آج بدھ کو علی الصبح خطرے کے سائرن سنائی دیے گئے۔ علاوہ ازیں کئی زور دار دھماکے بھی سنے گئے۔ عبرانی زبان کے چینل 13 کے مطابق بئر السبع میں نیواتیم فضائی اڈے پر راکٹوں کی بارش کر دی گئی۔

غزہ کی پٹی سے راکٹوں کی یہ برسات اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی جانب سے غزہ شہر کے وسط میں رہائشی عمارت الجوہرہ ٹاور کو تباہ کیے جانے کے بعد شروع ہوئی۔ عمارت میں 160 سے زیادہ فلسطینی گھرانے سکونت پذیر ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے اس سے قبل منگل کے روز رہائشی عمارت ہنادی ٹاور بھی تباہ کر دی تھی۔ اس عمارت میں 80 سے زیادہ فلسطینی گھرانے رہتے ہیں۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کے روز وسطی شہر لدّ میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔ شہر میں گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران میں عرب اقلیت کی جانب سے احتجاج اور ہنگامہ آرائی بھی سامنے آئی ہے۔ پولیس کے مطابق مقامی عرب اقلیت کی طرف سے ہنگامہ آرائی شہر میں ایک عرب اسرائیلی کی ہلاکت کے بعد دیکھی گئی۔

تل ابیب کے مضافات میں واقع لُد شہر کی مجموعی آبادی 77 ہزار ہے۔ اس میں 47 ہزار یہودی اور 23 ہزار عرب ہیں۔ پولیس کے مطابق ہنگامہ آرائی کے دوران گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور املاک کو نقصان بھی پہنچایا گیا۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ لُد میں تین یہودی عبادت گاہوں اور کئی دکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ بم باری کا تبادلہ 2014ء میں غزہ کی پٹی میں ہونے والی جنگ کے بعد اب تک کی شدید ترین بم باری ہے۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

اسرائیلی اور فلسطینی ذمے داران کے مطابق اسرائیلی فوج نے منگل کے روز مغربی کنارے میں فائرنگ کر کے ایک فلسطینی کو شہید اور دوسرے کو زخمی کر دیا۔ ان دونوں افراد نے نابلس شہر کے نزدیک اسرائیلی فوج کی سمت فائرنگ کی تھی۔