.

سوڈان: فوج کی فائرنگ سے متعدد مظاہرین ہلاک، امریکا کا تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں قائم امریکی سفارت خانے نے مسلح افواج کی جنرل کمانڈ سینٹر کے قریب پرامن مظاہرہ کرنے والے شہریوں پر طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے مظاہرین پر گولیاں برسانے والوں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

خرطوم میں قائم امریکی سفارت خانے کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کے کمان سینٹر کےقریب ہونے والے مظاہرے میں پرامن شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال پر امریکا کو گہری تشویش ہے۔ ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ مصری حکومت اور فوج مظاہرین کی ہلاکتوں کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے گی اور مقتولین کو انصاف فراہم کرےگی۔

امریکی سفارت خانے نے فوج کی فائرنگ سے شہریوں کی ہلاکتوں سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
دوسری جانب سوڈانی فوج نے فوج کے کمان سینٹر کے قریب دھرنے کو منتشرکرنے کے دو سال پورے ہونے پر منعقدہ احتجاجی ریلی پر فائرنگ سے متعلق خبروں کو بےبنیاد قرار دیا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مظاہرین پر گولیاں چلانے کے وقعے کی انکوائری کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو عدلیہ اور قانون سے متعلق کام کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز خرطوم میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہونےوالی جھڑپوں میں 2 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ لوگ دو سال قبل فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ساتھ قاتلوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے تھے۔

سوڈانی وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے کہا ہے کہ مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلانے کا واقعہ کسی صدمے سے کم نہیں۔ انہوں‌نے مظاہرین پر گولیاں برسانے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کا کئی جواز نہیں۔