.

غزہ پر اسرائیلی بمباری سے شہدا کی تعداد 30 ہوگئی

اسرائیلی آرمی چیف کی حماس کو سنگین نتائج کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں مزید 10 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں جس کے بعد سوموار کی شام سے جاری فوجی کارروائی میں اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 30 ہوگئی ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی آرمی چیف آویو کوچاوی نے ایک پریس کانفرنس میں غزہ کی پٹی میں آپریشن کا دائرہ وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں‌نے غزہ کی حکمراں 'حماس' کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ ہمارے حملوں کا نشانہ حماس کی قیادت اور غزہ کی پٹی میں بنیادی ڈھانچہ ہے۔

اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں اسلحہ کے ذخائر، گوداموں اور اسلحہ ساز فیکٹریوں‌کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دوسری طرف غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ سوموار کی شام سے جاری اسرائیلی بمباری میں اب تک 30 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ شہدا میں 10 بچے ہیں۔ بمباری میں 200 سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ میں دو ٹاوروں اور مینی کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے جن میں‌مبینہ طور پر اسلحہ اور گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا ہے۔ اسرائیل کی حکمراں جماعت 'لیکوڈ' نے غزہ میں حماس کی پوری قیادت کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری کے جواب میں جنوبی عسقلان میں فلسطینیوں کے راکٹ حملےکیے ہیں۔ عسقلان میں ہونے والے حملوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ نامہ نگار کے مطابق آتش زدگی ایک پٹرول اسٹیشن میں راکٹ لگنے سے ہوئی۔

فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں میں اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ راکٹ حملوں میں تل ابیب میں ایک خاتون ہلاک اور 26 زخمی ہوگئے ہیں۔

راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل نے بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پروازیں معطل کردیں تاہم کئی گھنٹوں کے تعطل کے بعد فلائٹ آپریشن بحال کر دیا گیا۔