.

شام: 'مفت خوراک اورعلاج' مغربی فرات میں ایران کا نیا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی ابتر معاشی صورت حال سے ناجائز فائدہ اٹھا کر مقامی آبادی کی وفاداریاں حاصل کرنا ایران کا دل پسند مشغلہ بن چکا ہے۔ شام میں دریائے فرات کے مغربی کنارے کی آبادی معاشی ابتری سےدوچار ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے وہاں کی آبادی کو مفت خوراک اور علاج فراہم کرکے ان میں اپنا اثرو نفوذ بڑھانے کی مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کا مقصد مغربی فرات کے علاقوں میں ایرانی پاسداران انقلاب اور ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی گرفت مضبوط کرنا اور وہاں کے نوجوانوں کو ملیشیاؤں میں‌ بھرتی کرنا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے'سیرین آبزر ویٹری' کے مطابق دیر الزور گورنری کے المیادین شہرمیں متمرکزملیشیا کی جانب سے 28 اپریل کو 58 جگجوؤں کی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد ان کی پاسنگ آؤٹ تقریب منعقد کی گئی۔

ایرانی ملیشیاؤں کی جانب سے بھرتی ہونے والے مقامی لوگوں کو فی کس 1 لاکھ 20 ہزار لیرہ تنخواہ کےساتھ ماہانہ راشن اور ان کے اہل خانہ کو ملیشیاؤں کے اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولیاتی کی فراہمی بھی شامل ہے۔

ایک دوسرے سیاق میں عراق کی سرحد کے قریب البوکمال میں بادیہ کے علاقوں میں قاسم سلیمانی ملیشیا کی آمد کے بعد عسکری سرگرمیاں بڑھا دی گئی ہیں۔

انسانی حقوق گروپ کے مطابق مغربی حلب میں الزھرا اور نبل کے مقامات سے 165 جنگجو المیادین پہنچے ہیں۔

رمضان المبارک کے دوران ایرانی ملیشیاؤں نے عراق کی سرحد پر واقع شامی علاقوں کی معاشی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میں اپنا اثرو نفوذ بڑھانے کی مہم جاری رکھی۔