.

اسرائیل کی امریکی سینٹرل کمان میں شمولیت کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا، وجہ جانیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی مزاحمتی گروپوں اور اسرائیل کے درمیان حالیہ لڑائی کے بعد متعدد عرب ریاستوں نے تل ابیب سے اپنے رابطوں میں محتاط رہنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد واشنگٹن نے بھی اسرائیل کو امریکی مرکزی کمان US CENTCOM کا حصہ بنانے کی کوششوں کو وقتی طور پر موقوف کر لیا ہے۔

صورت حال پر نظر رکھنے والے باخبر ذرائع نے بتایا بائیڈن انتظامیہ نے عالمی طرز فکر میں تبدیلی کے لیے جنوری میں جو کوششیں شروع کی تھیں ان کے تحت اسرائیل کو امریکی یورپی کمان سے نکال کر امریکی CENTCOM میں شامل کیا جانا تھا۔

امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی نے اسرائیل کو یورپی کمان سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج اور سینٹرل کمان کے زیر انتظام لانے کے فیصلے سے متعلق امید افزا خیالات کا اظہار کیا تھا۔

اپریل میں جنرل میکنزی نے امریکی سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا تھا کہ دو ہزار بیس میں کئی مسلمان اکثریتی ریاستوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات نارملائزیشن اور یونیفائیڈ کمانڈ منصوبہ کی نئی صف بندی کے تحت اسرائیل کو یورپی کمان سے مرکزی کمان میں شامل کرنے کے فیصلے سے علاقائی استحکام اور سکیورٹی تعاون کے کئی نئی مواقع ملیں گے۔

تاہم ’العربیہ‘ کو ذرائع نے بتایا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے تناظر میں پینٹاگان نے خود کو معاملات سے الگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ’’اسرائیل میں جو کچھ ہو رہا ہے، پینٹاگان کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔‘‘ انہی ذرائع کے بقول ’’گذشتہ برس اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں پر دستخط کرنے والی کئی عرب ریاستیں بھی اس وقت CENTCON کا حصہ بننے میں پس وپیش سے کام لے رہی ہیں۔‘‘

امریکی محکمہ دفاع اور ہینٹاگان نے متذکرہ پیش رفت پر کسی فوری تبصرے سے انکار کیا ہے۔

اردن، عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، لبنان اور چند دوسرے ملک سینٹ کام میں شال ہیں۔

جمعہ کے روز سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے قابض اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ وہ اپنے فلسطینی ہم منصب ریاض المالکی سے ٹیلی فون پر بات کر رہے تھے۔

بائیڈن انتظامیہ نے متعدد بار اسرائیل کے حق دفاع کی حمایت کرتے ہوئے حالیہ دنوں میں فلسطین۔اسرائیل تنازع سے متعلق مکمل طور پر مختلف نقطہ نظر اپنایا۔

متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ’’دی نیشنل‘‘ نے اوائل ہفتہ اپنی ایک اشاعت میں لکھا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ نے بیت القمدس کی بگڑتی ہوئی صورت حال سے متعلق دو عرب ملکوں کی تشویش کو در خو اعتنا نہیں جانا۔

فلسطین میں ہلاکتوں کی تعداد میں روز بروز اضافے کے بعد واشنگٹن کو اپنی خارجہ پالیسی میں انسانی حقوق کو خصوصی مقام دلوانے کی کوششوں کو عملی جامہ پہنانے میں انتہائی مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔