.

اماراتی فضائی کمپنیوں اتحاد اور فلائی دبئی نے تل ابیب کے لیے پروازیں منسوخ کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنیوں اتحادائیرویز اور فلائی دبئی نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے پیش نظر تل ابیب کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کردی ہیں۔اس سے پہلے امریکا اور یورپی یونین کی فضائی کمپنیوں نے بھی اسرائیل کے لیے اپنی تمام پروازیں منسوخ کردی ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے گذشتہ سال ستمبر میں امن معاہدہ طے کیا تھا اور دوطرفہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔اس کے بعد دونوں ملکوں کی فضائی کمپنیوں نے پروازیں شروع کی تھیں۔

ابوظبی کی ملکیتی اتحاد ائیرلائنز نے اتوار سے تل ابیب کے لیے اپنی تمام مسافر اور مال بردار پروازیں منسوخ کردی ہیں۔اس نے اپنی ویب سائٹ پر یہ اطلاع دی ہے کہ اس نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان حالیہ تنازع کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا ہے۔

اس نے کہا ہے کہ ’’اتحادائیرلائنز اسرائیل میں صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور سکیورٹی اور انٹیلی جنس حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔‘‘

فلائی دبئی نے بھی اتوار سے دبئی اور تل ابیب کے درمیان اپنی پروازیں منسوخ کردی ہیں۔البتہ ہفتے کے روز اس نے ان دونوں شہروں کے درمیان دو پروازیں چلائی ہیں۔اس کی ویب سائٹ کے مطابق اس کی باقی پروازیں آیندہ ہفتے کے لیے شیڈول تھیں۔

امارت دبئی کی ملکیتی یہ فضائی کمپنی اسرائیل کے لیے ہفتے میں چار پروازیں چلاتی رہی ہے لیکن مسافروں کی تعداد میں کمی کے پیش نظراس نے اپنی پروازیں کم کردی تھیں۔

اسی ہفتے اسرائیل کے غزہ پر تباہ کن فضائی حملوں کے ردعمل میں فلسطینی تنظیموں نے تل ابیب کی جانب سیکڑوں راکٹ داغے ہیں۔اس کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں کی فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازیں بند کردی ہیں۔