.

ایرانی عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی صدارتی امیدوار ہوگئے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی طاقت ور عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی نے آیندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں بہ طور امیدوار حصہ لینے کے لیے اپنے نام کا اندراج کرا لیا ہے۔

ابراہیم رئیسی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامہ ای کے مصاحب خاص سمجھے جاتے ہیں اور انھیں ان کا ممکنہ جانشین بھی قراردیا جارہا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’وہ صدارتی دوڑ میں شامل ہورہے ہیں۔وہ ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور غُربت ، کرپشن اور عدم مساوات کے خاتمے کے لیے ان تھک کوشش کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

انھیں سپریم لیڈر نے 2019ء میں ایرانی عدلیہ کا سربراہ مقرر کیا تھا۔توقع ہے کہ انھیں رہبرِاعلیٰ اور ایران کے قدامت پسند حلقوں کی صدارتی انتخاب میں حمایت حاصل ہوگی۔

60 سالہ ابراہیم رئیسی نے 2017ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا مگر وہ موجودہ صدر حسن روحانی سے ہار گئے تھے۔اگر 18 جون کوہونے والے صدارتی انتخاب میں بھی شکست سے دوچار ہوجاتے ہیں تو پھر ان کے آیت اللہ خامنہ ای کی جگہ رہبرِاعلیٰ بننے کا امکان معدوم ہوجائے گا۔

ایرانی پارلیمانی کے سابق اسپیکر علی لاریجانی نے بھی ہفتے کے روز صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے اپنے نام کا اندراج کرایا ہے۔ایران کے الیکشن کمیشن کے مطابق اب تک 300 سے زیادہ امیدواروں نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔

ایرانی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اب شورائے نگہبان صدارتی امیدواروں کی اہلیت کا جائزہ لے گی اور 27 مئی کو حتمی فہرست جاری کرے گی۔اس کے بعد صدارتی امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہوگی۔