.

اوآئی سی کا عالمی برادری سے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت رکوانے کا مطالبہ

سعودی عرب اوراسلامی ممالک نے اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سمیت اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) کے رکن ممالک نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور عالمی برادری سے غزہ اور غرب اردن میں صہیونی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کو فوری طور پر رکوانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اوآئی سی کے وزرائے خارجہ نے اتوار کو اپنے ہنگامی اجلاس کے بعد ایک قرارداد کی منظوری دی ہے اوراس میں کہا ہے کہ ’’(مقبوضہ بیت) القدس اوراسلام کا قبلۂ اوّل اور مسلمانوں کا تیسرا متبرک مقام مسجداقصیٰ مسلم اُمہ کے لیے ایک سُرخ لکیر ہے۔اس کی قابض قوت سے مکمل آزادی تک خطے میں مکمل سلامتی اور استحکام ممکن نہیں ہے۔‘‘

قرارداد میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی فلسطینیوں کو خلاف جارحیت کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

سعودی عرب کی دعوت پر اوآئی سی کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی ورچوئل اجلاس ہوا ہے۔اس میں مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں اور غزہ پر اس کے تباہ کن حملوں سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا گیا ہے۔

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اجلاس کے آغاز میں کہا کہ سعودی عرب فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کی مذمت کرتا ہے۔انھوں نے اسرائیل کی فلسطین میں جارحانہ کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شہزادہ فیصل نے کہا کہ ’’سعودی عرب مشرقی القدس (یروشلیم) سے فلسطینی شہریوں کی ان کے آبائی مکانوں سے جبری بے دخلی کی بھی مذمت کرتا ہے۔مشرقی یروشلیم فلسطینیوں کی سرزمین ہے،ہم یہ قبول نہیں کرسکتے کہ اس شہر کو کوئی نقصان پہنچائے۔‘‘

انھوں نے سعودی عرب کی جانب سے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کے مقابلے میں اپنی ذمے داری کو پورا کرے۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو اسرائیل کے اقدامات کو رکوانے کے لیے مداخلت کرنی چاہیے۔

شہزادہ فیصل نے عرب امن اقدام کی حمایت کا اعادہ کیا۔ سعودی عرب کی جانب سے 2005ء میں پیش کردہ اس امن اقدام میں فلسطینیوں کے لیے مشرقی یروشلیم دارالحکومت کے ساتھ آزاد ریاست کے قیام کی ضمانت دی گئی ہے۔

فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی نے اوآئی سی کے اجلاس میں اپنی تقریر میں کہا کہ ’’اسرائیل کی کارروائیاں عرب ، مسلم اور بین الاقوامی اقدار پر ایک حملہ ہیں۔‘‘ انھوں نے اس بات پر زوردیا کہ ’’فلسطینی عوام کو اسرائیل کی نسل پرستی کا سامنا ہے۔انھیں ان کی سرزمین سے بے دخل کیا جارہا ہے اور جائز حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ’’اسرائیلی آبادکارغرب اردن اور یروشلیم میں فلسطینی مکانوں کو نذرآتش کررہے ہیں۔‘‘

اردنی وزیرخارجہ ایمن الصفدی نے اپنی تقریر میں کہا کہ’’اسرائیل خطے کو مزید تنازع کا شکار کررہا ہے اور اس کے امن کوخطرے سے دوچار کررہا ہے۔‘‘انھوں نے اردن کی جانب سے فلسطینی نصب العین کی حمایت کا اظہار کیا۔

انھوں نے اسرائیل کی مشرقی القدس سے فلسطینیوں کو ان کے آبائی مکانوں سے جبری بے دخل کرنے کی کارروائیوں کی مذمت کی اور اس کو جنگی جرم قراردیا۔

کویتی وزیرخارجہ شیخ احمد ناصر الصباح کا کہنا تھا کہ ’’اسرائیل کے مشرقی بیت المقدس میں جرائم تمام بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔اسرائیل کی جارحیت سے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔‘‘