.

تہران کے زیر انتظام "ٹویٹر" اکاؤنٹس فلسطینی اسرائیلی تنازع کو مضبوط بنا رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ٹویٹر پر ایران کے ہمنوا اکاؤنٹس کے گروپ نے اس مقبول ترین بلاگنگ پلیٹ فارم کو "تقسیم اور نفرت انگیزی پر مبنی ٹویٹس" اور گمراہ کن معلومات سے بھر دیا ہے۔ یہ کام ایسے موقع پر کیا جا رہا ہے جب کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر فوجی حملوں کو شدید کر دیا ہے تا کہ تہران کی حمایت یافتہ فلسطینی تنظیم حماس کو نشانہ بنایا جا سکے۔ یہ کارروائی غزہ کی پٹی سے سیکڑوں راکٹوں کے داغے جانے کے جواب میں کی جا رہی ہے۔ ان راکٹ حملوں کا مقصد اسرائیل کے شہروں کو نشانہ بنانا ہے۔ یہ بات سیاسی طور پر ایک غیر جانب دار اور غیر منافع بخش تحقیقی ادارے کی جانب سے بتائی گئی۔

تفصیلات کے مطابقNetwork Contagion Research Institute نے اپنی تحقیق کے نتائج امریکی چینل Fox Newsپر ظاہر کیے۔

مذکورہ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر اور فوکس نیوز چینل کے شریک بانی جوئیل وینکلسٹن نے جمعے کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا " آپ کے پاس ایک معاند نظام ہے جو اوپن پلیٹ فارمز اور آزادی اظہار کو جمہوریت سبوتاژ کرنے اور دہشت گرد تنظیموں کو ہر شکل میں سپورٹ کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے"۔

یہ نفرت انگیز مواد اور تقاریر ایسے وقت میں پھیلائی جا رہی ہیں جب اسرائیل میں فلسطینیوں اور یہودیوں کے بیچ شدید شورش پائی جا رہی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ سارا کھیل امریکا اور دیگر مغربی ممالک میں رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے واسطے کھیلا جا رہا ہے۔

وینکلسٹن نے مزید بتایا کہ "ہمارے سامنے جو کچھ آیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ گمراہ کن رجحان ایران کا ہمنوا ہے ،،، اس کا نظم و نسق اسرائیل اور حماس کے بیچ بم باری کے تبادلے کے اثنا میں عمل میں آیا"۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کے سابق رکن اور Network Contagion Research Institute کے ایک ذیلی مرکز میں سینئر اسٹریٹجسٹ ڈینور ریگلمین کا کہنا ہے کہ "ایران نہ صرف بموں اور گولیوں کے ذریعے متحرک دہشت گردی کی ایک سرپرست ریاست ہے بلکہ وہ کمپیوٹر اور سوشل میڈیا پر سائبر وار کو بھی سپورٹ کرتا ہے ... یہاں یہ ہی معاملہ ہے .. ان کے نظم و نسق کی صلاحیت موجود ہے"۔