.

غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے 150 فضائی حملے ، تل ابیب پر مزید راکٹ فائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی میڈیا نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کی پٹی میں 150 نئے حملے کیے ہیں۔ العربیہ کے نمائندے کے مطابق اسرائیل کی اس بھرپور یلغار میں خان یونس اور تل الہوی میں رہائشی عمارتوں کو اور غزہ کی پٹی کے مغرب میں الاندلس ٹاور کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں کہ غزہ میں حماس تنظیم کے سربراہ يحيى السنوارکے گھر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کا گھر خان یونس میں واقع ہے تاہم کارروائی میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

العربیہ کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح تل ابیب میں دھماکے سنے گئے۔ یہ دھماکے اسرائیل کے وسطی علاقے پر راکٹوں کی تیسری کھیپ داغے جانے کے بعد سنائی دیے گئے۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق ہفتے کی رات اسرائیلی حملوں میں 7 فلسطینی شہید ہو گئے۔ وزارت صحت کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے بعد سے اب تک غزہ کی پٹی میں 144 فلسطینی شہید اور 1100 سے زیادی زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب غزہ پٹی سے داغے جانے والے راکٹوں کے نتیجے میں اسرائیل میں اب تک 9 افراد ہلاک اور 560 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں میں ایک بچہ اور ایک فوجی شامل ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے باور کرایا ہے کہ مقاصد حاصل کرنے اور ضرورت پڑنے تک غزہ کی پٹی میں اسرائیلی آپریشن پوری طاقت سے جاری رہے گا۔ انہوں نے اسرائیل کے اندر کی صورت حال کو سنگین قرار دیا۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے حماس تنظیم پر الزام عائد کیا کہ وہ شہریوں کو انسانی ڈھال بنا رہی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق تخریب کاروں کا تعاقب کیا جائے گا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تشدد پر بات چیت کی۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس موقع پر بائیڈن نے دو ریاستی حل کے لیے اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ امریکی صدر نے نیتن یاہو پر ایسے اقدامات کرنے پر زور دیا جن سے فلسطینیوں کو امن اور عزت کے ساتھ جینے کا موقع مل سکے ،،، اور بیت المقدس سب کے لیے باہمی بقاء کی جگہ بن سکے۔ بائیڈن نے اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو سپورٹ کیا۔

امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

اسرائیل نے کل ہفتے کے روز غزہ میں الجلاء ٹاور کی عمارت کو حملے میں تباہ کر دیا تھا۔ عمارت میں کئی عالمی میڈیا اداروں کے دفاتر واقع تھے۔

ادھر امریکی وزیر دفاع لائیڈ اوسٹن نے اپنے اسرائیلی ہم منصب بینی گینٹز سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ بات چیت میں فلسطینی اراضی اور اسرائیل میں جارحیت کا موضوع زیر بحث آیا۔

اس موقع پر اوسٹن نے گینٹز کو بتایا کہ امریکا اسرائیل سے اس بات کی توقع رکھتا ہے کہ وہ جلد از جلد فوجی آپریشن کو ختم کرے گا۔ اوسٹن نے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اوسٹن نے گفتگو کے دوران فائر بندی کے لیے گینٹز پر کافی دباؤ ڈالا۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بعض ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں حالیہ فوجی آپریشن میں ہونے والا نقصان 2014ء کی جنگ کے مساوی ہے۔