.

حماس کے زیر انتظام اسلحے کے درجنوں کارخانوں اورگوداموں کونشانہ بنایا:اسرائیلی فضائیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ کے نمائندے نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں خان یونس اور تل الہوی میں رہائشی عمارتوں کو اور مغرب میں الاندلس ٹاور کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بم باری کے آغاز کے بعد سے اب تک 174 فلسطینی شہید اور 1100 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں 47 بچے اور 29 خواتین شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج کے اعلان کے مطابق خان یونس میں حماس تنظیم کے ایک رہ نما یحیی السنوار کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم کارروائی میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ السنوار غزہ میں حماس تنظیم کے سربراہ ہیں۔

العربیہ کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح تل ابیب میں دھماکے سنے گئے۔ یہ دھماکے اسرائیل کے وسطی علاقے پر راکٹوں کی تیسری کھیپ داغے جانے کے بعد سنائی دیے گئے۔ اسرائیلی فوج کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ "غزہ میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ یحیی السنوار اور ان کے بھائی محمد السنوار کے گھروں پر بم باری کی گئی۔ محمد السنوار حماس میں لوجسٹک خدمات کے سربراہ ہیں"۔

علاوہ ازیں اسرائیلی فضائیہ کے مطابق غزہ میں حماس کے تین رہ نماؤں کے گھروں اور ان کے دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح غزہ میں حماس کے سرنگوں کے نیٹ ورک اور اسرائیل پر راکٹ حملوں کے لیے استعمال ہونے والے 40 ٹھکانوں پر 100 گائیڈڈ میزائل داغے گئے۔ علاوہ ازیں حماس کے زیر انتظام اسلحے کے درجنوں کارخانوں اور گوداموں پر بھی بم باری کی گئی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق پیر کے روز سے اب تک غزہ کی پٹی سے 2900 راکٹ اسرائیل پر داغے گئے۔ ان میں تقریبا 1150 راکٹوں کو آئرن ڈوم سسٹم نے فضا میں ہی تباہ کر ڈالا۔

العربیہ کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح تل ابیب میں دھماکے سنے گئے۔ یہ دھماکے اسرائیل کے وسطی علاقے پر راکٹوں کی تیسری کھیپ داغے جانے کے بعد سنائی دیے گئے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق گذشتہ 12 گھنٹوں میں غزہ کی پٹی سے 120 راکٹ داغے گئے ہیں۔

غزہ پٹی سے داغے جانے والے راکٹوں کے نتیجے میں اسرائیل میں اب تک 9 افراد ہلاک اور 560 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں میں ایک بچہ اور ایک فوجی شامل ہے۔