.

اسرائیلی فوج کی گھروں پر وحشیانہ بمباری، کئی فلسطینی زندہ درگور، قیامت کے مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قابض اسرائیلی فوج نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر جاری فوجی کارروائی کے دوران کل اتوار کو فلسطینیوں کی رہائشی کالونی کو تباہ کن بموں سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوگئے ہیں۔ فلسطینیوں کی بڑی تعداد تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے زندہ دب گئی ہے۔ مزید بمباری کے خوف سے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا کام بھی مشکلات کا شکار ہے۔

آج سوموار کے روز غزہ سے سامنے آنے والی ایک ویڈی ومیں میزائل حملے میں تباہ ہونے والی عمارت میں دب جانے والے فلسطینیوں‌کودیکھا جاسکتا ہے۔ ہرطرف قیامت کے مناظر ہیں۔
اسرائیلی فوج کی شہری آبادی پر وحشیانہ بمباری کے بعد فلسطینی شہری متاثرہ مقام کی طرف ملبے تلے دب جانے والوں کی مدد کو بھاگے۔

گذشتہ سوموار سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائی میں اب تک 181 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ ان میں 33 فلسطینی رات گئے فلسطینی آبادی پر بمباری میں شہید ہوئے۔ شہدا میں 52 بچے،31 خواتین شامل ہیں جب کہ 1225 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔

غزہ میں ایک مقامی صحافی نے العربیہ چینل کو بتایا کہ قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کے وسط میں الوحدہ شاہراہ پر واقع رہائشی اپارٹمنٹس کو بمباری کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 33 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ ملبے کے نیچےسے 3 بچوں کی لاشیں نکالی گئی ہیں جب کہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق کل اتوار کے روز اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروئیوں میں غرب اردن میں 21 فلسطینی شہید ہوگئے۔ فلسطینیوں پرحملوں‌میں اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کار دونوں پیش پیش ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں نے اسرائیل پر تین ہزار راکٹ داغے ہیں۔