.

سعودی وزیرخارجہ کا امریکی ہم منصب سے فلسطین کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی ہم منصب انٹونی بلینکن سے غزہ پر اسرائیل کے حملوں سمیت فلسطین کی تازہ صورت حال اور خطے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے اطلاع دی ہے:’’وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اتوارکو امریکی سیکریٹری خارجہ سے فون پر گفتگو کی ہے۔انھوں نے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تزویراتی تعلقات اور انھیں مختلف شعبوں میں فروغ دینے کے بارے میں بات چیت کی ہے۔انھوں نے فلسطین میں رونما ہونے والے تازہ واقعات سمیت خطے میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے۔‘‘

قبل ازیں سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کی مذمت کی ہے۔انھوں نے اجلاس کے آغاز میں اپنی تقریر میں اسرائیل کی فلسطین میں جارحانہ کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

شہزادہ فیصل نے کہا کہ ’’سعودی عرب مشرقی القدس (یروشلیم) سے فلسطینی شہریوں کی ان کے آبائی مکانوں سے جبری بے دخلی کی بھی مذمت کرتا ہے۔مشرقی یروشلیم فلسطینیوں کی سرزمین ہے،ہم یہ قبول نہیں کرسکتے کہ اس شہر کو کوئی نقصان پہنچائے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’قابض حکام نے یروشلیم میں شہریوں کی اراضی اور مکانوں پر جبری قبضہ کیا ہے،انھیں وہاں سے جبری طور پر بے دخل کیا جارہا ہے۔تمام بین الاقوامی قوانین کے تحت اس اقدام کو سختی سے مسترد کیا جاتا ہے اور اس کی مذمت کی جاتی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں بالخصوص قرارداد نمبر 2234 کے تحت مشرقی القدس فلسطینیوں کی سرزمین ہے اور اس پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا:’’ سعودی عرب اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے عالمی برادری اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ عالمی اقدارکے منافی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور تشدد کی کارروائیوں کو رکوائے۔‘‘

انھوں نے سعودی عرب کی جانب سے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے اپنی ذمے داری کو پورا کرے۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو اسرائیل کے اقدامات کو رکوانے کے لیے مداخلت کرنی چاہیے۔

شہزادہ فیصل نے عرب امن اقدام کی حمایت کا اعادہ کیا۔واضح رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے 2005ء میں پیش کردہ اس امن اقدام میں مشرقی یروشلیم دارالحکومت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت دی گئی ہے۔