.

سوڈان کے قرضوں کی جامع از سر نو ترتیب کے حوالے سے سعودی عرب سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب ،،، سوڈان کے قرض دہندگان پر دباؤ ڈالے گا تا کہ وہ اس افریقی ملک پر واجب الادا 50 ارب کے قرضوں میں کمی کے واسطے ایک سمجھوتے تک پہنچ جائیں۔ یہ بات سوڈان کے بیرونی قرضوں کی از سر نو ترتیب کے سلسلے میں ہونے والی بات چیت میں شریک ایک سعودی ذمے دار نے بتائی ہے۔

سوڈان میں عبوری حکومت وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کی قیادت میں شدید اقتصادی بحران سے نمٹنے اور سنجیدہ اصلاحات نافذ کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ دریں اثناء سوڈان پر واجب الادا غیر ملکی قرضوں اور بین الاقوامی اداروں اور تجارتی قرض دہندگان کے قرضوں کی معافی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

سعودی ذمے دار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "صرف ادائیگی میں التوا مدد گار ثابت نہیں ہو گا ... سعودعرب اور سوڈان کے دیگر ایسے دوست ممالک تلان کرنا ہوں گے جو قرضوں سے معافی دے دیں .. اس کو ممکن بنانے کے لیے ہم عالمی برادری میں ہونے والے کسی بھی کوشش کو سپورٹ کریں گے"۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ مملکت سعودی عرب 4.6 ارب ڈالر کے ساتھ سوڈان کے قرض دہندگان کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔

سوڈان بھاری قرضوں کے بوجھ میں دبے غریب ممالک کے لیے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی جانب سے اعلان کردہ منصوبے (HIPC) کے تحت قرضوں میں کمی کا اہل ہے۔