.

عرب ممالک کے خلاف لبنانی وزیر خارجہ کا بیان فضول اور غیر ذمے دارانہ ہے : سعد حریری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں نامزد وزیر اعظم سعد حریری کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ شربل وہبہ (صدر میشیل عون کے منظورِ نظر) کا بیان لبنانیوں کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ یہ اقتدار میں شامل ایک مخصوص ٹولے کا ترجمان ہے جو اندرونی اور بیرونی عناصر کے لیے کردار کے سرٹفکیٹ پیش کرنے کا عادی رہا ہے۔

حریری کا یہ موقف پیر کو رات گئے ان کے دفتر سے جاری ایک بیان میں سامنے آیا ہے۔

حریری نے زور دے کر کہا کہ "وزیر خارجہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بعض عرب اور خلیجی ممالک کے خلاف فضول بات کی تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ لبنانیوں کی اکثریت کا یہ موقف ہے، لبنانی عوام برادر عرب خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کی درستی کے خواہاں ہیں اور وہ اخوات اور مشترکہ مفادات کو ضرر پہنچانے کو ہر طرح مسترد کرتے ہیں"۔

لبنانی وزیرخارجہ شریل وہبہ
لبنانی وزیرخارجہ شریل وہبہ

حریری کے مطابق شربل وہبہ کا بیان کسی طور بھی سفارتی کام سے میل نہیں کھاتا ہے بلکہ یہ خارجہ پالیسی کے ساتھ ان فضول اور بے ہودہ کھلواڑ کا حصہ ہے جس پر اس زمانے کے وزراء نے انحصار کیا۔ حریری نے کہا کہ اس کے سبب لبنان اور عرب ممالک میں لبنانیوں کو بھیانک تنائج کا سامن کرنا پڑا۔

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران #شربل_وهبة کا ٹرینڈ لبنان میں سوشل میڈیا پر سرفہرست رہا۔ ہزاروں لبنانیوں کو اپنے ملک کے وزیر خارجہ کے بیان میں نا عاقبت اندیشی ، لبنان کے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنے اور بیرون ملک لبنانیوں کے مفادات کو بھی نقصان پہنچانے کا پہلو نظر آیا۔

اسی طرح ٹویٹر پر #شربل_وهبة_لا_يمثلنا (شربل وہبہ ہمارا نمائندہ نہیں) کا ٹرینڈ بھی گردش میں رہا۔

شربل وہبہ نے گذشتہ روز ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ بعض خلیجی ممالک نے داعش تنظیم کو سپورٹ کیا اور اسے عراق میں نینوی ، انبار اور تدمر میں لے کر آئے۔