.

ایرانی فوجیوں کی انتخابی سیاست، بائیکاٹ کرنے والوں کے لیے دہشت کی تلوار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں صدارتی انتخابات قریب ہیں اور بہت سے سابق فوجی عہدیدار بھی قسمت آزمائی کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایران کی فوجی قیادت کا صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل ہونا دراصل طاقت کے مراکز پر عسکری گرفت مضبوط کرنے کوشش ہے۔

اگر ان فوجی عہدیداروں کے کاغذات نامزدگی منظور نہیں کیے جاتے تو انہیں ملک میں کوئی اور اہم ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔ ایران میں فوجی رہ نمائوں کی صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شمولیت سے ذرائع ابلاغ کو بھی اچھا خاصا مواد مل جاتا ہے۔

ایران میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے فوجی عہدیداروں میں صدر حسن روحانی کے پہلے دور میں وزیر دفاع رہنے والے جنرل حسین دھقان، خاتم الانبیا بریگیڈ کے سابق سربراہ سعید محمد، پاسدارن انقلاب کے معاشی شعبے کے سابق سربراہ جنرل رستم قاسمی، پاسداران انقلاب کے سابق رہ نما محسن رضائی اور دیگر عہدیدار شامل ہیں۔

کرسی صدارت کے حصول کے لیے ایرانی فوجی لیڈروں کی کوشش نئی نہیں مگر رواں سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں ماضی کی نسبت زیادہ سابق فوجی عہدیدار اس میدان میں کود پڑے ہیں۔

محسن رضائی
محسن رضائی

ایران کا فوجی شعبہ اور پاسداران انقلاب براہ راست سپریم لیڈر کے ماتحت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاسداران انقلاب صدارتی منصب پر بھی اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔ دوسری وجہ ایرانی سپریم لیڈر نہیں چاہتے کہ صدارت جیسے اعلیٰ منصب پر کسی فوجی عہدیدار کی تعیناتی خود سپریم لیڈر کے منصب کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

تیسرا پہلو جو سب سے اہم ہے وہ سپریم لیڈر کے حوالے سے ہے۔ اگر سپریم لیڈر کی وفات ہوتی ہےتو ان کی جگہ لینے والا ان کا جانشین غیر فوجی ہی زیادہ مناسب ہے۔ تاہم خامنہ ای کی وفات کی صورت موجودہ عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی اور خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای فیصلہ کن شخصیات ہو سکتی ہیں۔

رستم قاسمی
رستم قاسمی

ایران میں فوجی عہدیداروں کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دستوری کونسل کی طرف سے دی جاتی ہے۔ اگر ان عہدیداروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے جاتے ہیں تو یہ فوجی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والوں کے لیے خوف کی تلوار بن سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان فوجی عہدیداروں اور سابق افسروں کو ایگزیکٹیو میں کوئی عہدہ دینا ضروری ہے۔ کئی سابق صدارتی امیدوار اس وقت ریاست کے کلیدی عہدیداروں پر فائز ہیں۔ ان میں میجر جنرل محمد باقر قالیباف، ایڈمرل علی شمخانی، میجر جنرل محسن رضائی اور علی جاری جانی جیسے سابق فوجی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کر چکے ہیں۔