.

سعودی وزیرخارجہ ایران سے ابتدائی مذاکرات میں پیش رفت کے بارے میں خوش اُمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایران کے ساتھ ابتدائی جائزہ بات چیت میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں خوش اُمیدی کا اظہار کیا ہے۔

وزیرخارجہ کا ایران سے تعلقات کی بحالی کے بارے میں بات چیت سے متعلق یہ پہلا بیان ہے۔انھوں نے پیرس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہم نے ابتدائی بات چیت کا عمل شروع کیا ہے۔یہ ابھی بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن ہم اس کے بارے میں پُرامید ہیں۔‘‘

شہزادہ فیصل نے کہا کہ ’’اگر ایرانی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات ہی ان کے مفاد میں ہیں تو پھر میں پُرامید ہوسکتا ہوں۔‘‘انھوں نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ایران سے مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ ’’جون میں ایران میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے سعودی عرب سے مذاکرات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے اثرات کم سے کم ہوں گے۔‘‘

انھوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری تفہیم کے مطابق ایران کی خارجہ پالیسی کا سپریم لیڈر(آیت اللہ علی خامنہ ای) تعیّن کرتے ہیں۔اس لیے ہمارا نہیں خیال کہ صدارتی انتخابات سے اس میں کوئی جوہری تبدیلی رونما ہوگی۔‘‘

سعودی وزیرخارجہ نے مزید کہا:’’یہ ممکن ہے کہ نمایندوں میں کوئی تبدیلی ہو اور وہ پالیسی کی عکاسی کریں لیکن بالآخر جو کچھ برسرزمین ہوگا،اسی کی اہمیت ہوگی اور وہ سب رہبراعلیٰ کی تحریک پر ہوگا۔‘‘

عراق میں ایران اور سعودی عرب کے حکام کے درمیان گذشتہ قریباً ڈیڑھ ایک ماہ سے دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے مذاکرات ہورہے ہیں۔عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی اس مذاکراتی عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کررہے ہیں۔

دونوں ملکوں نے ابتدا میں ان مذاکرات کو خفیہ ہی رکھا تھا لیکن فنانشیل ٹائمز نے سب سے پہلے ان کا انکشاف کیا تھا اور بتایا تھا کہ ایرانی اور سعودی حکام کے درمیان اس سلسلہ کی پہلی ملاقات 9اپریل کو بغداد میں ہوئی تھی۔

ایرانی حکومت نے 10 مئی کوان مذاکرات کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے نتائج کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

اس سے تین روز پہلے سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے 7 مئی کوایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان مذاکرات کا مقصد علاقائی کشیدگی کا خاتمہ ہے لیکن ساتھ ہی اس نے یہ کہا تھا کہ ان کے حاصلات کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ سعودی عرب اس ضمن میں ایران سے ’’قابل تصدیق اقدامات‘‘چاہتا ہے۔