.

فرانس کی اسرائیل،غزہ میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ میں مجوزہ قرارداد پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس نے مصر اور اردن کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک قرارداد پیش کی ہے۔

فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں اوران کے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس میں جنگ بندی کے لیے اس قرارداد سے اتفاق کیا ہے۔مصری صدر افریقا کے بارے میں ایک کانفرنس کے سلسلے میں ان دنوں پیرس کے دورے پر ہیں۔

پیرس میں ایلزے محل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ تینوں ممالک نے تین سادہ عناصر سے اتفاق کیا ہے:لڑائی بند ہونی چاہیے،جنگ بندی کا وقت آگیا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس معاملہ پرغور کرنا چاہیے۔‘‘

فرانس گذشتہ کئی روز سے فلسطینی علاقوں میں جنگ بندی کے لیے کوشاں ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ مصر کی مصالحتی کوششوں کا حامی ہے۔

تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ابھی تک غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک سادہ اعلامیے کی منظوری میں بھی ناکام رہی ہے۔اسرائیل کا پشتیبان امریکا تنازع کے خاتمے کے لیے چین ، ناروے اور تُونس کے جنگ بندی سے متعلق مجوزہ بیانات کو مسترد کرچکا ہے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ میں چینی سفیر ژانگ جَن نے بتایا ہے کہ ’’سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں ارکان نے فرانسیسی سفیر کی تجویز پرغور کیا ہے۔چین یقینی طور پربحران کے خاتمے کے لیے کوششوں کی حمایت کرتا ہے اورمشرقِ اوسط میں امن کی بحالی چاہتا ہے۔‘‘