.

اسرائیل اور غزہ میں جنگ بندی ، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی سطح پر خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے فیصلے کا بین الاقوامی سطح پر خیر مقدم کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے قبل مصر نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے بیچ غزہ کی پٹی میں بحالی امن کی کوششیں کامیاب ہونے کا اعلان کیا تھا۔ مصر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ متبادل جنگ بندی ہے جو اسرائیل اور غزہ میں بیک وقت نافذ العمل ہو گی۔

غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے فیصلے پر عمل جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب 2 بجے سے شروع ہو گیا۔ ادھر قاہرہ کا کہنا ہے کہ وہ فائر بندی کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اپنے دو وفود کو تل ابیب بھیجے گا۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے فائر بندی کے فیصلے کی تصدیق کی ہے۔

مصر کی وساطت سے غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے درمیان یہ فائر بندی 11 روز کی شدید عسکری جارحیت کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ 2014ء کے بعد فریقین کے بیچ سب سے شدید لڑائی تھی۔ لڑائی میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھی جن میں اکثریت فلسطینیوں کی ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن
امریکی صدر جوبائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ کی پٹی میں فائر بندی تک پہنچنے میں مصر اور دیگر ملکوں کے کردار کو گراں قدر قرار دیا ہے۔ انہوں نے ان اسرائیلی اور فلسطینی گھرانوں سے تعزیت کا اظہار کیا جو اس لڑائی میں اپنے پیاروں کو گنوا بیٹھے۔

بائیڈن نے باور کرایا کہ ان کا ملک اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے غزہ کی تعمیر نو اور وہاں کے عوام کو انسانی امداد پیش کرنے کا پابند رہے گا۔ اس حوالے سے حماس کے ساتھ نہیں بلکہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس

ادھر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے اسرائیل اور غزہ میں فائر بندی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے فریقین کے بیچ بحالی امن کے حوالے سے مصر کی کوششوں کو سراہا۔

مصری صدر عبالفتاح السیسی
مصری صدر عبالفتاح السیسی

مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا کہنا ہے کہ انہیں امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ اس دوران میں اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے بیچ جاری تنازع کو ٹھنڈا کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔ السیسی کے مطابق اس سلسلے میں دونوں سربراہان کا متفقہ موقف یہ تھا کہ تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کیا جائے۔

اقوام متحدہ میں امریکی خاتون مندوب لنڈا تھامس گرینفیلڈ نے باور کرایا کہ امریکا نے اسرائیل اور غزہ میں تنازع کے جلد از جلد خاتمے کے لیے بڑی کوششیں کیں۔ انہوں نے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد پہنچائے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب
برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب

برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے اسرائیل اور غزہ کے بیچ فائر بندی کی خبر کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام فریقوں کو فائر بندی کو مضبوط بنانے اور تشدد کے ناقابل قبول سلسلے کو ختم کرنے کے لیے کام کرنا ہو گا۔

اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کی فوج غزہ کی پٹی سے ممکنہ حملوں کے اندیشے کے سبب ابھی تک ہائی الرٹ ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق زمینی صورت حال فوجی آپریشن کے جاری رکھنے یا نہ رکھنے کا تعین کرے گی۔

واضح رہے کہ اسرائیلی چھوٹی (سیکورٹی) کابینہ اور حماس اور جہاد اسلامی تنظیموں نے فائر بندی پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔ یہ فائر بندی غزہ کی پٹی میں 11 روز تک جاری رہنے والی شدید بم باری اور حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔